| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
مسئلہ ۹: جس جائداد موقوفہ کی بیع نہیں ہوسکتی اگر کسی نے ایسی جائداد بیع کر دی تو اس پر شفعہ نہیں ہوسکتا کہ شفعہ کے لیے بیع ہونا ضرور ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: اگر وقف ایسا ہو جس کی بیع جائز ہو اور وہ فروخت ہوا تو اس پر شفعہ ہوسکتا ہے اور اگر اُس کے جوار میں کوئی جائداد فروخت ہوئی تو وقف کی جانب سے شفعہ نہیں ہوسکتا کہ اس کا کوئی مالک نہیں جو شفعہ کرسکے۔ یوہیں اگر جائداد کا ایک جز وقف ہے اور ایک جز ملک اور جو حصہ مِلک ہے وہ فروخت ہوا تو وقف کی جانب سے اُس پر شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: مکان کو نکاح کا مَہرقرار دیا یا اُس کو اُجرت مقرر کیا تو اُس پر شفعہ نہیں ہوسکتا اور اگرمَہر کوئی دوسری چیز ہے مکان کو اُس کے بدلے میں بیع کیا یا نکاح میں مہر کا ذکر نہ ہوا اورمَہرمثل واجب ہوا اُس کے بدلے میں عورت کے ہاتھ مکان بیچ دیا تو شفعہ ہوسکتا ہے۔(3) (عالمگیری)شفعہ کے مراتب
مسئلہ ۱: شفعہ کے چند اسباب مجتمع ہو جائیں تو اُن میں ترتیب کا لحاظ رکھا جائے گا جو سبب قوی ہو اُس کو مقدم کیا جائے۔ شفعہ کے تین سبب ہیں۔ (۱)شفعہ کرنے والا شریک ہے یا(۲)خلیط ہے یا(۳)جارِ ملاصق۔ شریک وہ ہے کہ خود مبیع میں اُس کی شرکت ہو مثلاًایک مکان دو شخصوں میں مشترک ہے ایک شریک نے بیع کی تو دوسرے شریک کو شفعہ پہنچتا ہے۔ خلیط کا یہ مطلب ہے کہ خود مبیع میں شرکت نہیں ہے اس کا حصہ بائع کے حصہ سے ممتاز ہے مگر حق مبیع میں شرکت ہے مثلاًدونوں مکانوں کا ایک ہی راستہ ہے اور راستہ بھی خاص ہے یا دونوں کے کھیت میں ایک نالی سے پانی آتا ہو۔ جار ملاصق یہ ہے کہ اس کے مکان کی پچھیت(4)دوسرے کے مکان میں ہو۔ ان سب میں مقدم شریک ہے پھر خلیط اور جار ملاصق کا مرتبہ سب سے آخر میں ہے۔(5) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲: شریک نے مشتری کو تسلیم کر دی یعنی شفعہ کرنا نہیں چاہتا ہے تو خلیط کو شفعہ کا حق حاصل ہوگیا کہ اُس کے بعد اسی کا مرتبہ ہے یا اُس جائداد میں کسی کی شرکت ہی نہیں ہے تو خلیط کو شفعہ کا حق ہے اور خلیط نے بھی مشتری سےـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۱. 2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۷۲. 3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۱۶۱. 4۔۔۔۔۔۔مکان کے پیچھے کی دیوار۔ 5۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،ج۲،ص۳۰۸. و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۵۔۳۶۸.