حدیث ۱: صحیح بخاری میں ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''پروسی کو شفعہ کرنے کا حق ہے''۔(1)
حدیث ۲: امام احمد و ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''پروسی کو شفعہ کرنے کا حق ہے اس کا انتظار کیا جائے گااگرچہ وہ غائب ہو جبکہ دونوں کا راستہ ایک ہو''۔ (2)
حدیث ۳: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھماسے روایت کی کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''شریک شفیع ہے اور شفعہ ہر شے میں ہے''۔ (3)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فیصلہ فرمادیا کہ شفعہ ہر شرکت کی چیز میں ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو مکان ہو یا باغ ہو۔ اُسے یہ حلال نہیں کہ شریک کو بغیر خبرکیے بیچ ڈالے خبر کرنے پر وہ چاہے تو لے لے اور چاہے چھوڑ دے اور اگر بغیر خبر کیے اُس نے بیچ ڈالا تو وہ حقدار ہے۔(4)
حدیث ۵: صحیح بخاری میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فیصلہ کیا کہ شفعہ ہر غیر منقسم چیز میں ہے اور جب حدود واقع ہوگئے اور راستے پھیر دیے گئے یعنی تقسیم کر کے ہر ایک کا راستہ جدا کر دیا گیا تو اب شفعہ نہیں یعنی شرکت کی وجہ سے جو شفعہ تھا وہ اب نہیں۔ (5)
حدیث ۶: صحیح بخاری میں عَمْرْو بن شَرِید سے مروی ہے کہتے ہیں میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس کھڑا تھا اتنے میں ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے اور یہ کہا کہ سعد تمہارے دار میں جو میرے دو مکان ہیں اُنھیں خرید لو اُنھوں نے کہا میں نہیں خریدوں گا مِسْوَربن مَخْرَمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا واللہ تم کو خریدنا ہوگا سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا واﷲ میں چار ہزاردرہم سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی باقساط ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا۔ مجھے پانسو اشرفیاں مل رہی ہیں