Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
229 - 357
کلیاں نکلی ہیں اور کسی نے ان کو جھاڑ کر گرا دیا تو یہاں بھی اُسی صورت سے تاوان لیا جائے گا۔(1) (عالمگیری)

    مسئلہ ۳۸: کسی شخص نے خاص کوئیں میں نجاست ڈالی تو اوس سے تاوان لیا جائے گا۔ اور عام کوئیں میں ڈالی تو اسے حکم ہوگا کہ کوئیں کو پاک کرے۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۹: علی بن عاصم رحمہ اﷲتعالٰی علیہ کہتے ہیں میں نے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  سؤال کیا کہ ایک شخص کا ایک روپیہ دوسرے کے دو روپے میں مل گیا اُس کے پاس سے دو روپے جاتے رہے ایک باقی ہے اور معلوم نہیں یہ کس کا روپیہ ہے اس کا کیا حکم ہے امام نے فرمایا وہ جو باقی ہے اُس میں سے ایک تہائی ایک روپیہ والے کی ہے اور دو تہائیاں دو۲ روپے والے کی۔ علی بن عاصم کہتے ہیں اس کے بعد میں ابن شبرمہ رحمہ اﷲتعالٰی علیہ سے ملا اور ان سے بھی یہی سؤال کیا اُنھوں نے کہا تم نے اس کو کسی اور سے بھی پوچھا ہے میں نے کہا ہاں ابو حنیفہ رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے پوچھا ہے ابن شبرمہ نے کہا اُنھوں نے یہ جواب دیا ہوگا میں نے کہا ہاں۔ ابن شبرمہ نے کہا اُنھوں نے غلط جواب دیا اس لیے کہ دو روپے جو گم ہوگئے اون میں ایک تو یقینا اُس کا ہے جس کے دو روپے تھے اور ایک میں احتمال ہے کہ اُس کا ہو یا ایک روپیہ والے کا ہو اور جو باقی ہے اس میں بھی احتمال ہے کہ دو والے کا ہو یا ایک والے کا دونوں برابر کا احتمال رکھتے ہیں لہٰذا نصف نصف دونوں بانٹ لیں۔ کہتے ہیں مجھے ابن شبرمہ کا جواب بہت پسند آیا پھر میں امام اعظم(رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے ملا اور ان سے کہا کہ اس مسئلہ میں آپ کے خلاف جواب ملا ہے امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے فرمایا کیا تم ابن شبرمہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے پاس گئے تھے میں نے کہا ہاں۔ فرمایا انھوں نے تم سے یہ کہا ہے وہ سب باتیں بیان کر دیں میں نے کہا ہاں۔ فرمایا کہ جب تینوں روپے مل گئے اور امتیاز باقی نہ رہا توہر روپیہ میں دونوں شریک ہوگئے ایک والے کی ایک تہائی اور دو والے کی دو تہائیاں پھر جب دو گم ہوگئے تو دونوں کی شرکت کے دو روپے گم ہوئے اور جو باقی ہے یہ بھی دونوں کی شرکت کا ہے کہ ایک تہائی ایک کی اور دو تہائیاں دوسرے کی۔ (3)(جوہرہ) 

    مسئلہ ۴۰: ایک شخص نے دوسرے سے کہا اس بکری کو ذبح کر دو اوس نے ذبح کر دی اور بکری اوس کی نہ تھی جس نے ذبح کرنے کو کہا تھا تو ذبح کرنے والے کو تاوان دینا ہوگا اوسے یہ بات کہ بکری دوسرے کی ہے معلوم ہو یا نہ ہو دونوں کا ایک حکم ہے ہاں یہ فرق ہے کہ اگر معلوم نہیں ہے تو کہنے والے سے رجوع کرسکتا ہے اور معلوم ہو تو رجوع بھی نہیں کرسکتا۔(4) (عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع فی کیفیۃ الضمان،ج۵،ص۱۳۱.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص ۱۳۲.

3۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الغصب،الجزء الأول، ص ۴۴۶.

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب التاسع فی الأمربالاتلاف...إلخ،ج۵،ص۱۴۲.
Flag Counter