مسئلہ ۴۱: کسی نے کہا میرے اس کپڑے کو پھاڑ کر پانی میں ڈال آؤ اُس نے ایسا ہی کیا تو اُس پر تاوان نہیں مگر گنہگار ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: زمین غصب کر کے اُس میں کوئی چیز بوئی مالک نے کھیت جوت کر کوئی اور چیز بودی مالک کو تاوان نہیں دینا ہوگا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کاشت کی مالک نے کہا تم نے ایسا کیوں کیا میرا کھیت واپس دو بونے والے نے کہا اُتنے ہی بیج مجھے دے دو اور میں اُجرت کے طور پر کام کروں گا یا یہ کہ جو کچھ کھیت میں ہو نصف میرا اور نصف تمہارا مالک زمین نے بیج دے دیے پیداوار مالک زمین لے گا اور اس کو اُجرت مثل دے گا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: درخت کی شاخ دوسرے کی دیوار پر آگئی اس کو اپنی دیوار کے نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ ہے مالکِ درخت سے کہہ دے کہ شاخ کاٹ ڈالو ورنہ میں خود کا ٹ ڈالوں گا اگر مالک نے کاٹ دی فبہا ورنہ یہ کاٹ ڈالے اس پر تاوان واجب نہیں کہ مالک کا خاموش رہنا رضامندی کی دلیل ہے اور اگر مالکِ درخت سے بغیر کہے کاٹ ڈالی تو تاوان واجب ہوگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: دو انڈے غصب کئے ایک کو مرغی کے نیچے رکھ دیا اور دوسرے کو اس نے نہیں رکھا بلکہ مرغی آپ سیتی رہی(5)اور دونوں سے بچے ہوئے تو دونوں غاصب کے ہیں اور غاصب سے دو انڈے تاوان میں لیے جائیں گے اور اگر غصب نہ کیے ہوتے بلکہ اس کے پاس ودیعت ہوتے تو جس انڈے کو مرغی نے خود سی کر بچہ نکالا وہ مودِع کا ہوتا اور جس کو مرغی کے نیچے رکھتا وہ مودَع کا ہوتا اور اس انڈے کا تاوان دینا ہوتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: تنور میں اتنی لکڑیاں ڈال دیں کہ تنور اُن کا متحمل نہ تھا شعلہ اوٹھا اور وہ مکان جلا اورپروس کا مکان بھی جل گیا اس مکان کا تاوان دینا ہوگا۔ (7)(عالمگیری)