اور گویے کے ہوں تو بھی بالاتفاق تاوان واجب نہیں۔ (1)(ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: شطرنج، گنجفہ(2)، چوسر(3)، تاش وغیرہ ناجائز کھیل کی چیزیں تلف کر دیں ان کا بھی تاوان واجب نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: طبل غازی کو توڑ ڈالا یا وہ دف جس کو شادیوں میں بجانا جائز ہے اسے توڑا یا چھوٹے بچوں کے تاشے باجے توڑ ڈالے تو ان کا تاوان ہے۔(5) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: بولنے والے کبوتر یا فاختہ کو تلف کیا تو تاوان میں وہ قیمت لی جائے گی جو بولنے والے کی ہے اسی طرح بعض کبوتر خوبصورت ہوتے ہیں اس کی وجہ سے اُن کی قیمت زیادہ ہوتی ہے تو تاوان میں یہی قیمت لی جائے گی اور اُڑنے والے کبوتروں میں وہ قیمت لگائی جائے گی جو نہ اُڑنے والے کی ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: سینگ والامینڈھا جو لڑایا جاتا ہے یا اصیل مرغ جس کو لڑاتے ہیں ان میں وہ قیمت لگائی جائے گی جو نہ لڑنے والوں کی ہے کیونکہ ان کا لڑانا حرام ہے قیمت میں اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (7)(عالمگیری)یوہیں تیتر، بٹیر وغیرہ لڑاتے ہیں اور اس کی وجہ سے انھیں بہت داموں میں خریدتے بیچتے ہیں ان کے اتلاف میں وہی قیمت لی جائے گی جو گوشت کھانے کے تیتر بٹیر کی ہو۔
مسئلہ ۳۷: درخت میں چھوٹے چھوٹے پھل ہیں جو اس وقت کسی کام کے نہیں جیسے امرود کے ابتدائی پھل وہ تلف کر ڈالے تو یہ نہیں خیال کیا جائے گا کہ ان کی کچھ قیمت نہیں ہے بلکہ تاوان لیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ تنہا درخت کی کیا قیمت ہے اور درخت مع پھل کی کیا قیمت ہے جو زیادتی قیمت میں ہو وہ نقصان کرنے والے سے لی جائے۔ یوہیں اگر درخت میں