بتاتاتو جو کچھ مالک کہتا ہے اُس پر غاصب کو قسم دی جائے یعنی قسم کھائے کہ یہ قیمت نہیں ہے جو مالک کہتا ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرتا ہے تو مالک جو کچھ کہتا ہے دینا ہوگا اور قسم کھا گیا تو مالک کو قسم کھانی ہوگی کہ جو کچھ میں نے قیمت بیان کی وہی ہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: شے مغصوب ضمان لینے کے بعد ظاہر ہوگئی تو مالک کو اختیار ہے کہ ضمان جو لے چکا ہے واپس کر دے اور اپنی چیز لے لے اور چاہے تو ضمان کو نافذ کر دے یہ اُس صورت میں ہے کہ قیمت وہ لی گئی جو غاصب نے بتائی ہے اور غاصب کو اختیار نہیں ہے اور اگر قیمت وہ دلائی گئی ہے جو مالک نے بتائی یا مالک نے گواہوں سے ثابت کی ہے یا غاصب پر قسم دی گئی اس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا ہے تو ان صورتوں میں مالک اس چیز کو نہیں لے سکتا۔ (2)(ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۳۱: مغصوب میں جو زیادت مُنفَصِلہ پیدا ہوئی مثلاً جانور کا دودھ، درخت کے پھل، یہ غاصب کے پاس بمنزلہء امانت ہے اگر غاصب نے اُس میں تعدِّی کی ،ہلاک کر ڈالی،خرچ کر ڈالی یا مالک نے طلب کی اور غاصب نے نہیں دی جب تو ضمان واجب ہوگا ورنہ ان کا ضمان واجب نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: طبلہ(4)، سارنگی(5)، ستار(6)، یکتارا(7)، دوتارا(8)، ڈھول اور ان کے علاوہ دوسری قسم کے باجے کسی نے توڑ ڈالے توڑنے والے کو تاوان دینا ہوگا مگر تاوان میں باجے کی قیمت نہیں دی جائے گی بلکہ اوس قسم کی لکڑی کُھدی ہوئی باجے کے سوا اگر کسی جائز کام میں آئے اُس کی جو قیمت ہو وہ دی جائے یہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے مگر صاحبین کے قول پر فتویٰ ہے وہ یہ کہ توڑنے والے پر کچھ بھی تاوان واجب نہیں بلکہ ان کی بیع بھی جائز نہیں اور یہ اختلاف اُسی صورت میں ہے جب وہ لکڑی کسی کام میں آسکتی ہو ورنہ بالاتفاق تاوان نہیں اور اگر امام کے حکم سے توڑے ہوں تو بالاتفاق تاوان واجب نہیں اور یہ اختلاف اُس میں ہے کہ وہ باجے ایسے شخص کے نہ ہوں جو گاتا بجاتا ہو