میں اگر مغصوب اموالِ ربا میں سے نہ ہو تو ضمان واجب ہے اور وہ مغصوب اموالِ ربا میں سے ہو تو ضمان نہیں مثلاًگیہوں غصب کیے تھے وہ خراب ہوگئے یا چاندی کا برتن یا زیور غصب کیے تھے اور غاصب نے توڑ ڈالے اس میں مالک کو اختیار ہے کہ وہی خراب لے لے یا اس کا مثل لے لے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ چیز بھی لے اور نقصان کا معاوضہ بھی لے۔ اور چوتھی صورت میں اگر معمولی نقصان ہے تو نقصان کا ضمان لے سکتا ہے اور زیادہ نقصان ہے تو مالک کو اختیار ہے کہ وہ چیز لے لے اور جو کچھ نقصان ہوا وہ لے یا چیز کو نہ لے بلکہ اس کی پوری قیمت وصول کرے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۷: مغصوب شے کو اُجرت پر دیا اور اس سے اُجرت حاصل کی اور فرض کرو اُجرت پر دینے سے اس چیز میں نقصان پیدا ہوگیا تو جو کچھ نقصان کا معاوضہ دینے کے بعد اس اُجرت میں سے بچے اس کو صدقہ کر دے یوہیں اگر مغصوب ہلاک ہوگیا تو اس اُجرت سے تاوان دے سکتا ہے اور اس کے بعد کچھ بچے تو تصدّق کر دے اور اگر غاصب غنی(2)ہو تو کل آمدنی تصدّق (3)کر دے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: مغصوب(5)یا ودِیعت(6)اگر معین چیز ہو اسے بیچ کر نفع حاصل کیا تو اس نفع کو صدقہ کر دینا واجب ہے مثلاًایک چیز کی قیمت سو روپے تھی اور غاصب نے اسے سوا سومیں بیچا سو روپے تاوان کے دینے ہوں گے اور پچیس روپے کو صدقہ کر دینا ہوگا اور اگر وہ چیز غیر متعین یعنی از قبیل نقود ہو (7)تو اس میں چار صورتیں ہیں۔ (۱) عقد و نقد دونوں اسی حرام مال پر مجتمع ہوں مثلاً یوں کہا کہ اس روپیہ کی فلاں چیز دو پھر وہی روپیہ اسے دے دیا تو یہ چیز جو خریدی ہے یہ بھی حرام ہے یا بائع کو پہلے سے وہ حرام روپیہ دے دیا تھا پھر اس سے چیز خریدی یہ چیز حرام ہے۔ (۲) عقد ہو نقد نہ ہو یعنی حرام روپیہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کی فلاں چیز دو مگر بائع کو یہ روپیہ نہیں دیا بلکہ دوسرا دیا۔ (۳)عقد نہ ہو نقد ہو بائع سے حرام کی طرف اشارہ کر کے نہیں کہا کہ اس روپیہ کی چیز دو بلکہ مطلقاً کہا کہ ایک روپیہ کی چیز دو مگر ثمن میں یہی حرام روپیہ دیا۔ (۴)حلال روپیہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کی چیز دو مگر ثمن میں حرام روپیہ ادا کیا ان تین صورتوں میں تصدق واجب نہیں ہے اور بعض فقہا ان صورتوں میں بھی تصدق کو واجب کہتے ہیں اور یہ قول بھی باقوت ہے مگر زمانہ کی حالت دیکھتے ہوئے کہ حرام سے بچنا بہت دشوار ہوگیا قول اول پر بعض علماء نے فتوےٰدیا ہے۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)