Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
216 - 357
مغصوب چیز میں تغییر
    مسئلہ ۱: مغصوب میں ایسی تبدیل کر دی کہ وہ دوسری چیز ہوگئی یعنی پہلا نام بھی باقی نہ رہا اور اُس کے اکثر مقاصد بھی جاتے رہے یا اُس کو اپنی چیز یا دوسرے کی چیز میں اس طرح ملا دیا کہ تمیز نہ ہوسکے مثلاًگیہوں کو گیہوں میں ملا دیا یا دشواری سے جدا ہوسکے مثلاً جَومیں گیہوں ملا دیے تو غاصب تاوان دے گا اور اُس چیز کا مالک ہو جائے گا مگر غاصب اُس چیز سے نفع حاصل نہیں کرسکتا جب تک تاوان نہ دیدے یا مالک اسے معاف نہ کر دے یاقاضی اُس کے تاوان کا حکم نہ کر دے یعنی مالک کی رضامندی درکار ہے اور وہ ان تینوں صورتوں سے ہوتی ہے۔(1) (ہدایہ، درمختار) 

    مسئلہ ۲: روپیہ(2)غصب کر کے گلا دیا(3)تو اگرچہ اب وہ نام باقی نہ رہا اوسے روپیہ نہیں کہا جائے گا مگر اس کے اکثر مقاصد اب بھی باقی ہیں کہ اب بھی وہ ثمن ہے اس کا زیور وغیرہ بن سکتا ہے لہٰذا مالک کو واپس لینے کا حق باقی ہے۔ (4)(درمختار) 

    مسئلہ ۳: مالک موجود نہیں ہے پردیس چلا گیا ہے غاصب چاہتا ہے کہ اس کی چیز واپس کر دے مگر مالک کے انتظارمیں چیز خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو لوگوں کو گواہ بنا لے کہ میں اُسے ضمان دے دوں گا اب اُس سے نفع حاصل کر سکتاہے۔ (5)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴: کھانے کی چیز غصب کی اور اُس کو چبایا کہ چیز اس قابل نہ رہی کہ مالک کو واپس دی جائے مگر چونکہ ضمان دیا نہیں لہٰذا حلق سے اوتارنا لقمہ حرام نگلنا ہے۔ (6)(درمختار) 

    مسئلہ ۵: بکری غصب کر کے ذبح کر ڈالی اُس کا گوشت بھونا یا پکایا یا گیہوں غصب کر کے آٹا پسوایا یا کھیت میں بودیے یا لوہا غصب کر کے اُس کی تلوار، چُھری وغیرہ بنوالی یا تانبا، پیتل غصب کر کے ان کے برتن بنا لیے ان سب صورتوں میں غاصب کے ذمہ ضمان لازم ہوگا اور چیز غاصب کی مِلک ہو جائے گی مگر بے رضامندی مالک اِنتفاع حلال نہیں۔ (7)(ہدایہ، درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل فیما یتغیر...إلخ،ج۲،ص۲۹۹.

و''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۱۹.

2۔۔۔۔۔۔یعنی سونے ،چاندی یاکسی دھات کاسکہ۔    3۔۔۔۔۔۔یعنی پِگھلا دیا۔

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الغصب،ج۹،ص۳۲۰.

5۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''، کتاب الغصب، مطلب شری داراً...إلخ،ج۹،ص۳۲۱.

6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۲۱.

7۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،فصل فیمایتغیر... إلخ،ج۲،ص۲۹۹.

و''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۲۲.
Flag Counter