Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
209 - 357
کے پیڑوں سے کھجوریں جھاڑ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم تشریف لائے اور فرمایا :''اے لڑکے پیڑوں پر کیوں ڈھیلے پھینکتا ہے میں نے عرض کی جھاڑ کر کھاتا ہوں فرمایا جھاڑو مت جو نیچے گری ہیں انھیں کھا لو پھر ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا کی الٰہی (عزوجل)تو اسے آسودہ کر دے۔ ''(1)

    حدیث ۱۳: طبرانی نے اشعث بن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  روایت کی کہ فرمایا نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے:''جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اﷲ تعالٰیسے کوڑھی ہو کر ملے گا۔'' (2)

    مال متقوم محترم منقول(3)سے جائز قبضہ کو ہٹا کر ناجائز قبضہ کرنا غصب ہے جبکہ یہ قبضہ خفیۃًنہ ہو اس ناجائز قبضہ کرنے والے کو غاصب اور مالک کو مغصوب منہ اور چیز کو مغصوب کہتے ہیں جس چیز پر ناجائز قبضہ ہوا مگر کسی جائز قبضہ کو ہٹا کر نہیں ہوا وہ غصب نہیں مثلاً جو چیز غصب کی تھی اس میں کچھ زائد چیزیں پیدا ہوگئیں، جیسے جانور غصب کیا تھا اس سے بچہ پیدا ہوا۔ گائے غصب کی تھی اس کا دودھ دوہا ان زوائد کو غصب کرنا نہیں کہا جائے گا۔ غیر متقوم چیز پر قبضہ کیا یہ بھی غصب نہیں مثلاً مسلمان کے پاس شراب تھی اس نے چھین لی اور مال محترم نہ ہو جیسے حربی کافر کا مال چھین لیا یہ بھی غصب نہیں۔ غیر منقول پر قبضہ ناجائز کیا یہ بھی غصب نہیں۔ (4)(درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۱: بعض ایسی صورتیں بھی ہیں کہ ا گرچہ وہ غصب نہیں ہیں مگر ان میں غصب کا حکم جاری ہوتا ہے یعنی ضمان کا حکم دیا جاتا ہے اس وجہ سے ان کو بھی غصب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مثلاً مودَع (5)نے ودیعت سے انکار کر دیا یا ہلاک کر دیا کہ یہاں تاوان لازم ہے۔ پڑا مال اٹھایا اور اس پر گواہ نہیں بنایا، پرائی مِلک میں کوآں کھودا اور اس میں کسی کی چیز گر کر ہلاک ہوگئی اور ان کے علاوہ بہت سی ایسی صورتیں ہیں جن میں تاوان کا حکم ہے اور وہاں غصب نہیں کہ ان سب صورتوں میں تعدّی کی وجہ سے(6)ضمان لازم آتا ہے۔(7) (ردالمحتار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد،باب من قال إنہ یأکل مماسقط،الحدیث:۲۶۲۲،ج۳،ص۵۵.

2۔۔۔۔۔۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۶۳۷،ج۱،ص۲۳۳.

3۔۔۔۔۔۔منقول وہ مال ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہو۔

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۲۹۸،۳۰۱،وغیرہ.

5۔۔۔۔۔۔جس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے۔

6۔۔۔۔۔۔یعنی اپنی طرف سے قصداً زیادتی کی وجہ سے۔

7۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۲۹۸.
Flag Counter