کہ تم نے مجھے آگے بڑھتے دیکھا یہاں تک کہ اپنی جگہ پر جاکر کھڑا ہوگیا اور میں نے ہاتھ بڑھایا تھا اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ جنت کے پھلوں میں سے کچھ لے لوں کہ تم بھی انھیں دیکھ لو پھر میری سمجھ میں آیا کہ ایسا نہ کروں۔'' (1)
حدیث ۷: بیہقی نے شعب الایمان اور دارقطنی نے مجتبیٰ میں ابو حرہ رقاشی سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''خبردار تم لوگ ظلم نہ کرنا سن لو کسی کا مال بغیر اس کی خوشی کے حلال نہیں۔''(2)
حدیث ۸: ترمذی و ابو داود نے سائب بن یزید سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''کوئی شخص اپنے بھائی (مسلمان)کی چھڑی ہنسی مذاق میں واقعی طور پر نہ لے لے یعنی ظاہر تو یہ ہے کہ مذاق کر رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لینا ہی چاہتا ہے اور جس نے اس طرح لی ہو وہ واپس کر دے۔''(3)
حدیث ۹: امام احمد و ابو داود و نسائی سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے ارشاد فرمایا:''جوشخص اپنا بعینہٖ مال کسی کے پاس پائے تو وہی حقدار ہے اور وہ شخص جس کے پاس مال تھا اگر اس نے کسی سے خریدا ہے تووہ اپنے بائع سے مطالبہ کرے۔''(4)
حدیث ۱۰: ابو داود نے سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:'' جب کوئی شخص جانوروں میں پہنچے (اور دودھ دوہنا چاہے)اگر مالک وہاں ہو تو اس سے اجازت لے لے اور وہاں نہ ہو تو تین مرتبہ مالک کو آواز دے اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے کر دوہے اور جواب نہ آئے تو دوہ کر پی لے وہاں سے لے نہ جائے۔''(5) (یہ حکم اس وقت ہے کہ یہ شخص مضطر ہو)
حدیث ۱۱: ترمذی و ابن ماجہ نے عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص باغ میں جائے تو کھائے، جھولی میں رکھ کر لے نہ جائے۔''(6) (یہ بھی اضطرار کی صورت میں ہے یا وہاں کا ایسا عرف ہوگا)۔
حدیث ۱۲: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ رافع بن عَمْرْو غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں میں لڑکا تھا انصار