Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
207 - 357
    حدیث ۳ و ۴: امام احمد نے یعلٰی بن مُرّہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے ناحق زمین لی قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لائے۔''(1)دوسری روایت امام احمد کی انھیں سے یوں ہے کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لی۔ اﷲعزوجل اسے یہ تکلیف دے گا کہ اس حصہ زمین کو کھودتا ہوا سات زمین تک پہنچے پھر یہ سب اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا اور یہ طوق اس وقت تک اس کے گلے میں رہے گا کہ تمام لوگوں کے مابین فیصلہ ہو جائے۔ ''(2)

    حدیث ۵: صحیح مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''کوئی شخص دوسرے کا جانور بغیر اجازت نہ دوہے(3)کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ پر کوئی آکر خزانہ کی کوٹھری توڑ کر جو کچھ اس میں کھانے کی چیزیں ہیں اوٹھا لے جائے۔ ان لوگوں یعنی اعراب اور بدویوں کے کھانے کے خزانے جانوروں کے تھن ہیں''(4)یعنی جانوروں کا دودھ ہی ان کی غذا ہے۔

    حدیث ۶: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے زمانہ میں آفتاب میں گہن لگا اور اسی روز حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تھی حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے گہن کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد یہ فرمایا:''تمام وہ چیزیں جن کی تمہیں خبر دی جاتی ہے سب کو میں نے اپنی اس نماز میں دیکھا میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی اور یہ اس وقت کہ تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا کہ کہیں اوس کی لپٹ نہ لگ جائے میں نے اس میں صاحبِ مِحْجن کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں گھسیٹ رہا ہے۔ (مِحْجن اس چھڑی کو کہتے ہیں جس کی مونٹھ(5)ٹیڑھی ہوتی ہے جاہلیت میں ایک شخص عمرو بن لحی نامی تھا، جو اسی قسم کی چھڑی رکھتا اس کو صاحبِ مِحْجن کہتے تھے)وہ حاجیوں کی چیز چھڑی کی مونٹھ سے کھینچ لیا کرتا تھا اگر حاجی کو پتا چل جاتا کہ میری چیز کسی نے کھینچ لی تو کہہ دیتا کہ تمہاری چیز میری چھڑی کی مونٹھ سے لگ گئی اور اسے پتا نہ چلتا تو یہ چیز اٹھا لے جاتا۔ اور میں نے جہنم میں بلی والی عورت کو دیکھا جس نے بلی پکڑ کر باندھ رکھی تھی نہ اسے کچھ کھلایا نہ چھوڑا کہ وہ کچھ کھا لیتی وہ بلی اسی حالت میں بھوک سے مر گئی پھر اس کے بعد جنت میرے سامنے پیش کی گئی۔ یہ اس وقت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،حدیث یعلی ا بن مرۃ الثقفی،الحدیث:۱۷۵۶۹،ج۶،ص۱۷۷.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،الحدیث:۱۷۵۸۲،ج۶،ص۱۸۰.

3۔۔۔۔۔۔یعنی دودھ نہ نکالے۔

4۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب اللقطۃ،باب تحریم حلب الماشیۃ بغیر إذن مالکھا،الحدیث:۱۳۔(۱۷۲۶)،ص۹۵۰.

5۔۔۔۔۔۔چھڑی کا سرا،قبضہ۔
Flag Counter