| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
مسئلہ ۹: ان دونوں یعنی نابالغ و معتوہ کے پاس جو چیز ہے اس کے متعلق یہ اقرار کیا کہ یہ فلاں کی ہے خواہ یہ چیز ان کے کسب کی ہو یا میراث میں ملی ہو ان کا اقرار صحیح ہے اور اگر باپ نے ہی ان کو اذن دیا اور اسی کے لیے اقرار کیا تو یہ اقرار صحیح نہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: باپ نے اپنے دو نابالغ لڑکوں کو اجازت دی ان میں سے ایک نے دوسرے سے کوئی چیز خریدی یہ بیع جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: لڑکا مسلمان ہے اور اس کا باپ کافر ہے تو یہ باپ ولی نہیں اور اس کو اذن دینے کا اختیار نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: نابالغ ماذون پر دعویٰ ہوا اور وہ انکار کرتا ہے تو اس پر حلف (4)دیا جائے گا۔(5) (عالمگیری)غصب کا بیان
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبَاطِلِ)
(6)
''ایک کا مال دوسرا شخص ناحق طور پر نہ کھائے۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں :''جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لے لی قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اتنا حصہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔''(7)
حدیث ۲: صحیح بخاری شریف میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ بھی ناحق لے لیا قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ ''(8)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الماذون،مبحث:فی تصرف الصبی...إلخ،ج۹،ص۲۹۵. 2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،الباب التاسع فی الشہادۃ علی العبد الماذون...إلخ،ج۵،ص۱۰۳. 4۔۔۔۔۔۔قسم۔ 5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثالث عشرفی المتفرقات،ج۵،ص۱۱۵. 6۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۱۸۸. 7۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب بدء الخلق،باب ماجاء في سبع ارضین،الحدیث:۳۱۹۸،ج۲،ص۳۷۷. 8۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،باب ماجاء في سبع ارضین،الحدیث:۳۱۹۶،ج۲،ص۳۷۶.