Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
205 - 357
سے قبل جو عقد کیا ہے وہ اذن پر موقوف ہے ولی کے نافذ کرنے سے نافذ ہوگا اور اذن کے بعد وہ ان تصرفات میں آزاد بالغ کی مثل ہے۔ (1)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳: نابالغ غیر ماذون نے بیع کی تھی اور ولی نے اس کے متعلق کچھ نہیں کہا تھا یہاں تک کہ یہ خود بالغ ہوگیا تو اب اجازت ولی پر موقوف نہیں ہے یہ خود نافذ کرسکتا ہے۔ (2)(درمختار) 

    مسئلہ ۴: ولی باپ ہے باپ کے مرنے کے بعد اس کا وصی پھر وصی کا وصی پھر دادا پھر اس کا وصی پھر اس وصی کا وصی پھر بادشاہ یا قاضی یا وہ جس کو قاضی نے وصی مقرر کیا ہو ان تینوں میں تقدیم و تاخیر نہیں ان تینوں میں سے جو تصرف کر دے گا نافذ ہوگا۔ (3)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۵: چچا اور بھائی اور ماں یا اس کے وصی کو ولایت نہیں ہے تو بہن پھوپی خالہ کو کیا ہوتی۔(4)(عالمگیری، درمختار)یہاں مال کی ولایت کا ذکر ہے نکاح کا ولی کون ہے اس کو ہم کتاب النکاح میں(5)بیان کرچکے ہیں وہاں سے معلوم کریں۔ 

    مسئلہ ۶: ولی نے نابالغ یا معتوہ کو بیع کرتے دیکھا اور منع نہ کیا خاموش رہا تو یہ سکوت(6)بھی اذن ہے اور قاضی نے ان کو بیع و شراء(7)کرتے دیکھا اور خاموش رہا تو اس کا سکوت اذن نہیں۔(8) (درمختار) 

    مسئلہ ۷: نابالغ و معتوہ کے لیے ولی نہ ہو یا ولی ہو مگر وہ بیع وغیرہ کی اجازت نہ دیتا ہو تو قاضی کو اختیار ہے کہ وہ اجازت دیدے۔(9) (درمختار) 

    مسئلہ ۸: قاضی نے اجازت دے دی اس کے بعد وہ قاضی مر گیا یا معزول ہوگیا تو باپ وغیرہ اب بھی اسے نہیں روک سکتے اور وصی نے اجازت دی تھی پھر وہ مرگیا تو حجر ہوگیا یعنی اس کے بعد جو ولی ہے اس کی اجازت درکار ہے۔(10) (عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۹۱.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون، الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰.

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰.

و''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۹۳.

5۔۔۔۔۔۔بہارشریعت،ج۲،حصہ۷میں۔    6۔۔۔۔۔۔خاموشی ۔    7۔۔۔۔۔۔خریدو فروخت۔

8۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۶۴،۲۶۶،۲۹۴.

9۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۹۴.

10۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون، الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۲،۱۱۳.
Flag Counter