سے قبل جو عقد کیا ہے وہ اذن پر موقوف ہے ولی کے نافذ کرنے سے نافذ ہوگا اور اذن کے بعد وہ ان تصرفات میں آزاد بالغ کی مثل ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: نابالغ غیر ماذون نے بیع کی تھی اور ولی نے اس کے متعلق کچھ نہیں کہا تھا یہاں تک کہ یہ خود بالغ ہوگیا تو اب اجازت ولی پر موقوف نہیں ہے یہ خود نافذ کرسکتا ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴: ولی باپ ہے باپ کے مرنے کے بعد اس کا وصی پھر وصی کا وصی پھر دادا پھر اس کا وصی پھر اس وصی کا وصی پھر بادشاہ یا قاضی یا وہ جس کو قاضی نے وصی مقرر کیا ہو ان تینوں میں تقدیم و تاخیر نہیں ان تینوں میں سے جو تصرف کر دے گا نافذ ہوگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: چچا اور بھائی اور ماں یا اس کے وصی کو ولایت نہیں ہے تو بہن پھوپی خالہ کو کیا ہوتی۔(4)(عالمگیری، درمختار)یہاں مال کی ولایت کا ذکر ہے نکاح کا ولی کون ہے اس کو ہم کتاب النکاح میں(5)بیان کرچکے ہیں وہاں سے معلوم کریں۔
مسئلہ ۶: ولی نے نابالغ یا معتوہ کو بیع کرتے دیکھا اور منع نہ کیا خاموش رہا تو یہ سکوت(6)بھی اذن ہے اور قاضی نے ان کو بیع و شراء(7)کرتے دیکھا اور خاموش رہا تو اس کا سکوت اذن نہیں۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۷: نابالغ و معتوہ کے لیے ولی نہ ہو یا ولی ہو مگر وہ بیع وغیرہ کی اجازت نہ دیتا ہو تو قاضی کو اختیار ہے کہ وہ اجازت دیدے۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۸: قاضی نے اجازت دے دی اس کے بعد وہ قاضی مر گیا یا معزول ہوگیا تو باپ وغیرہ اب بھی اسے نہیں روک سکتے اور وصی نے اجازت دی تھی پھر وہ مرگیا تو حجر ہوگیا یعنی اس کے بعد جو ولی ہے اس کی اجازت درکار ہے۔(10) (عالمگیری)