| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
مسئلہ ۳: لڑکے کی عمر بارہ سال یا لڑکی کی نو سال کی ہو اور وہ اپنے کو بالغ بتاتے ہیں اگر ظاہر حال ان کی تکذیب نہ کرتا ہو (1)کہ ان کے ہم عمر بالغ ہوں تو ان کی بات مان لی جائے گی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴: جب ان کا بالغ ہونا تسلیم کر لیا گیا تو بالغ کے جتنے احکام ہیں ان پر جاری ہوں گے اور اس کے بعدوہ اپنے بالغ ہونے سے انکار کرے بھی تو معتبر نہ ہوگا اگرچہ یہ احتمال ہے کہ وہ نابالغ ہو اس کی بیع و تقسیم نہیں توڑی جائیں گی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵: جس لڑکے کی عمر بارہ سال کی ہو اور اس کے ہم عمر بالغ ہوں اس نے اپنی عورت سے جماع کیا اور عورت کے بچہ پیدا ہوا تو اس کے بلوغ کا حکم دیا جائے گا اور بچہ ثابت النسب ہوگا۔(4) (عالمگیری)ماذون کا بیان
حجر سے تصرفات نہیں کرسکتا تھا جس کا بیان گزرا اس حجر کے دور کرنے کو اذن کہتے ہیں یہاں صرف ان مسائل کو بیان کرنا ہے جن کا تعلق نابالغ یا معتوہ سے ہے غلام ماذون کے مسائل ذکر کرنے کی حاجت نہیں۔
مسئلہ ۱: نابالغ کے تصرفات تین قسم ہیں۔نافع محض ۱؎ یعنی وہ تصرف جس میں صرف نفع ہی نفع ہے جیسے اسلام قبول کرنا۔ کسی نے کوئی چیز ہبہ کی اس کو قبول کرنا اس میں ولی کی اجازت درکار نہیں۔ ضار محض۲؎ جس میں خالص نقصان ہو یعنی دنیوی مضرت ہو اگرچہ آخرت کے اعتبار سے مفید ہو جیسے صدقہ و قرض، غلام کو آزاد کرنا۔ زوجہ کو طلاق دینا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ولی اجازت دے تو بھی نہیں کرسکتا بلکہ خود بھی بالغ ہونے کے بعد اپنی نابالغی کے ان تصرفات کو نافذ کرنا چاہے نہیں کرسکتا۔ اس کا باپ یا قاضی ان تصرفات کو کرنا چاہیں تو یہ بھی نہیں کرسکتے۔ بعض ۳؎ وجہ سے نافع بعض وجہ سے ضار جیسے بیع، اِجارہ، نکاح یہ اذن ولی پر موقوف ہیں۔ (5)(درمختار وغیرہ)نابالغ سے مراد وہ ہے جو خرید و فروخت کا مطلب سمجھتا ہو جس کا بیان اوپر گزر چکا اور جو اتنا بھی نہ سمجھتا ہو اوس کے تصرفات ناقابل اعتبار ہیں۔ معتوہ کے بھی یہی احکام ہیں جو نابالغ سمجھ وال کے ہیں۔
مسئلہ ۲: جب ولی نے بیع کی اجازت دے دی تو اس نے جس قیمت پر بھی خرید و فروخت کی ہو جائز ہے اور اذنـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔جھٹلاتا نہ ہو۔ 2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر، فصل،ج۹،ص۲۶۰. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،۲۶۱. 4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحجر،الباب الثانی فی الحجرللفساد،الفصل الثانی،ج۵،ص۶۱. 5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۹۱،وغیرہ.