Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
201 - 357
ہوتا ہے نہ ہمیشہ ضرر، اگر وہ خریدنے اور بیچنے کے معنی جانتا ہو کہ خریدنا یہ ہے کہ دوسرے کی چیز ہماری ہو جائے گی اور بیچنا یہ کہ اپنی چیز اپنی نہ رہے گی دوسرے کی ہو جائے گی تو اس کا عقد ولی کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے جائز کر دے گا جائز ہو جائے گا ردکر دے گا باطل ہو جائے گا اور اگر اتنا بھی نہ جانتا ہو کہ بیچنا اور خریدنا اسے کہتے ہیں تو اس کا عقد باطل ہے ولی کے جائز کرنے سے بھی جائز نہیں ہوگا مجنون کا بھی یہی حکم ہے۔(1) (ہدایہ، درمختار) 

    مسئلہ ۷: فعل میں حجر نہیں ہوتا یعنی ان کے افعال کو کالعدم نہیں سمجھا جائے گا بلکہ ان کا اعتبار کیا جائے گا لہٰذا نابالغ یامجنون نے کسی کی کوئی چیز تلف کر دی تو ضمان واجب ہے فی الحال تاوان وصول کیا جائے گا یہ نہیں کہ جب وہ بالغ ہو یا مجنون ہوش میں آئے اس وقت تاوان وصول کریں یہاں تک کہ اگر ایک دن کے بچہ نے کروٹ لی اور کسی شخص کی شیشہ کی کوئی چیز تھی وہ ٹوٹ گئی اس کا بھی تاوان دینا ہوگا۔ (2)(درمختار، عالمگیری)

    مسئلہ ۸: بچہ نے کسی سے قرض لیا یا اس کے پاس کوئی چیز امانت رکھی گئی یا اس کو کوئی چیز عاریت دی گئی یا اس کے ہاتھ کوئی چیز بیع کی گئی اور یہ سب کام ولی کی بغیر اجازت ہوئے اور بچہ نے وہ چیز تلف کر دی تو ضمان واجب نہیں۔ (3)(درمختار) 

    مسئلہ ۹: آزاد عاقل بالغ پر حجر نہیں کیا جاسکتا کہ مثلاً وہ سفیہ ہے مال کو بیجا خرچ کرتا ہے عقل و شرع کے خلاف وہ اپنے مال کو برباد کرتا ہے۔ گانے بجانے والوں کو دے دیتا ہے تماشہ کرنے والوں کو دیتا ہے کبوتر بازی میں مال اڑاتا ہے بیش قیمت کبوتروں کو خریدتا ہے پتنگ بازی میں آتش بازی میں اور طرح طرح کی بازیوں میں مال ضائع کرتا ہے۔ خرید و فروخت میں بے محل ٹوٹے میں پڑتا ہے(4)کہ ایک روپیہ کی چیز ہے دس پانچ میں خرید لی دس کی چیز ہے بلاوجہ ایک روپیہ میں بیع کر ڈالی۔ غرض اسی قسم کے بیوقوفی کے کام جو شخص کرتا ہے اس کو ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک حجر نہیں کیا جاسکتا اسی طرح فسق یا غفلت کی وجہ سے یا مدیون ہے اس وجہ سے اس پر حجر نہیں ہوسکتا مگر صاحبین(5)کے نزدیک ان صورتوں میں بھی حجر کیا جاسکتا ہے اور صاحبین ہی کے قول پر یہاں فتویٰ دیا جاتا ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الحجر،ج ۲،ص۲۷۷.

و''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۵.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۶.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحجر،الباب الاول فی تفسیرہ شرعاً...إلخ،ج۵،ص۵۴.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۷.

4۔۔۔۔۔۔خسارے میں پڑتا ہے،نقصان اٹھا تاہے۔     5۔۔۔۔۔۔یعنی حضرت امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃاللہ تعالٰی علیھما۔

6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۷.
Flag Counter