استعداد ہوگئی کہ کتابیں دیکھ کر محنت کر کے علم حاصل کرسکتا ہے ورنہ درس نظامی میں دینیات کی جتنی تعلیم ہے ظاہر کہ اس کے ذریعہ سے کتنے مسائل پر عبور ہوسکتا ہے مگر ان میں اکثر کو اتنا بیباک (1)پایا گیا ہے کہ اگر کسی نے ان سے مسئلہ دریافت کیا تو یہ کہنا ہی نہیں جانتے کہ مجھے معلوم نہیں یا کتاب دیکھ کر بتاؤں گا کہ اس میں وہ اپنی توہین جانتے ہیں اٹکل پچو(2)جی میں جو آیا کہہ دیا۔ صحابہ کبار و ائمہء اعلام کی زندگی کی طرف اگر نظر کی جاتی ہے تومعلوم ہوتا ہے کہ باوجود زبردست پایہء اجتہاد رکھنے کے بھی وہ کبھی ایسی جراء ت نہیں کرتے تھے جو بات نہ معلوم ہوتی اس کی نسبت صاف فرما دیا کرتے کہ مجھے معلوم نہیں۔ ان نوآموزمولویوں کو (3)ہم خیر خواہانہ نصیحت کرتے ہیں کہ تکمیل درس نظامی کے بعد فقہ و اصول و کلام و حدیث و تفسیر کا بکثرت مطالعہ کریں اور دین کے مسائل میں جسارت(4)نہ کریں جو کچھ دین کی باتیں ان پر منکشف و واضح ہو جائیں ان کو بیان کریں اور جہاں اشکال پیدا ہو(5) اس میں کامل غور و فکر کریں خود واضح نہ ہو تو دوسروں کی طرف رجوع کریں کہ علم کی بات پوچھنے میں کبھی عار (6)نہ کرنا چاہیے۔
مسئلہ ۳: جنون قوی ہو یا ضعیف حجر کے لیے سبب ہے۔ معتوہ جس کو بوہرا کہتے ہیں وہ ہے جو کم سمجھ ہو اوس کی باتوں میں اختلاط ہو اوٹ پٹانگ باتیں(7)کرتا فاسد التدبیرہو (8)مجنون کی طرح لوگوں کو مارتا گالی دیتا نہ ہو یہ معتوہ اس بچہ کے حکم میں ہے جس کو تمیز ہے۔ (9)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مجنون نہ طلاق دے سکتا ہے نہ اقرار کرسکتا ہے اسی طرح نابالغ کہ نہ اس کی طلاق صحیح نہ اقرار ،مجنون اگر ایسا ہے کہ کبھی کبھی اسے افاقہ ہو جاتا ہے اور افاقہ بھی پوری طور پر ہوتا ہے تو اس حالت میں اس پر جنون کا حکم نہیں ہے اور اگر ایسا افاقہ ہے کہ عقل ٹھکانے پر نہیں آئی ہو تو نابالغ عاقل کے حکم میں ہے۔(10) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: غلام طلاق بھی دے سکتا ہے اور اقرار بھی کرسکتا ہے مگر اس کا اقرار اس کی ذات تک محدود ہے لہٰذا اگر مال کا اقرار کریگا تو آزاد ہونے کے بعد اس سے وصول کیا جاسکتا ہے اور حدود و قصاص کا اقرار کریگا تو فی الحال قائم کر دیں گے آزاد ہونے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ (11)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: نابالغ نے ایسا عقد کیا جس میں نفع و ضرر دونوں ہوتے ہیں جیسے خرید و فروخت کہ نہ ہمیشہ اس میں نفع ہی