(حدیث ۲): دوسری حدیث میں فرمایا: ''تین شخصوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے سوتے سے یہاں تک کہ بیدار ہو اور بچہ سے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے اور مجنون سے یہاں تک کہ ہوش میں آئے''۔(1)
مسئلہ ۱: کسی شخص کے تصرفات قولیہ روک دینے کو حجر کہتے ہیں۔ انسان کواﷲ تعالٰی نے مختلف مراتب پر پیدا فرمایا ہے کسی کو سمجھ بوجھ اور دانائی و ہوشیاری عطا فرمائی اور بعض کی عقلوں میں فتور (2)اور کمزوری رکھی جیسے مجنون اور بچے کہ ان کی فہم و عقل میں جو کچھ قصور ہے وہ مخفی نہیں اگر ان کے تصرفات نافذ ہو جایا کریں اور بسا اوقات یہ اپنی کم فہمی سے(3)ایسے تصرفات کر جاتے ہیں جو خود ان کے لیے مضر ہیں تو انھیں کو نقصان اوٹھانا پڑے گا لہٰذا اس کی رحمتِ کاملہ نے ان کے تصرفات کو روک دیا کہ ان کو ضرر نہ پہنچنے پائے۔ باندی غلام کی عقل میں فتور نہیں ہے مگر یہ خود اور جو ان کے پاس ہے سب ملکِ مولیٰ ہے لہٰذا ان کو پرائی مِلک میں تصرّف کرنے کا کیا حق ہے۔
مسئلہ ۲: حجر کے اسباب تین ہیں۔ نابالغی، جنون، رقیت نتیجہ یہ ہوا کہ آزاد عاقل بالغ کو قاضی محجور نہیں کرسکتا ہاں اگر کسی شخص کے تصرفات کا ضرر عام لوگوں کو پہنچتا ہو تو اس کو روک دیا جائے گا مثلاً طبیب جاہل کہ فن طب میں مہارت نہیں رکھتا اور علاج کرنے کو بیٹھ جاتا ہے لوگوں کو دوائیں دے کر ہلاک کرتا ہے۔ آج کل بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص سے یا مدرسہ میں طب پڑھ لیتے ہیں اور علاج و معالجہ سے سابقہ بھی نہیں پڑتا دو تین برس کے بعد سند طب حاصل کر کے مطب کھول لیتے ہیں اور ہر طرح کے مریض پرہاتھ ڈال دیتے ہیں مرض سمجھ میںآیا ہویا نہ آیا ہونسخے پلاناشروع کردیتے ہیں۔وہ اس کہنے کو کسرِ شان(4)سمجھتے ہیں کہ میری سمجھ میں مرض نہیں آیا ایسوں کو علاج کرنا کب جائز و درست ہے۔ علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مدت دراز تک استاد کامل کے پاس بیٹھے اور ہر قسم کا علاج دیکھے اور استاد کی موجودگی میں علاج کرے اور طریق علاج کو استاد پر پیش کرتا رہے جب استاد کی سمجھ میں آجائے کہ یہ شخص اب علاج میں ماہر ہوگیا تو علاج کی اجازت دے۔ آج کل تعلیم اور امتحان کی سندوں کو علاج کے لیے کافی سمجھتے ہیں مگر یہ غلطی ہے اور سخت غلطی ہے، اسی کی دوسری مثال جاہل مفتی ہے کہ لوگوں کو غلط فتوے دے کر خود بھی گمراہ و گنہگار ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی کرتا ہے طبیب ہی کی طرح آج کل مولوی بھی ہو رہے ہیں کہ جو کچھ اس زمانہ میں مدارس میں تعلیم ہے وہ ظاہر ہے اول تو درس نظامی جو ہندوستان کے مدارس میں عموماًجاری ہے اس کی تکمیل کرنے والے بھی بہت قلیل افراد ہوتے ہیں عموماً کچھ معمولی طور پر پڑھ کر سند حاصل کر لیتے ہیں اور اگر پورا درس بھی پڑھا تو اس پڑھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اب اتنی