| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
مسئلہ ۴۹: چوروں نے کسی کو مجبور کیا کہ تمہارا مال کہاں ہے بتاؤ ورنہ ہم قتل کر ڈالیں گے اس نے نہیں بتایا انھوں نے قتل کر ڈالا یہ شخص گنہگار نہ ہوا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: مرد و عورت دونوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ لوگوں کے سامنے ایک ہزار پر طلاق دوں گا اور طلاق دینامقصود نہ ہوگا محض لوگوں کے دکھانے کے لیے ایسا کیا جائے گا چنانچہ لوگوں کے سامنے ایک ہزار پر طلاق دے دی۔ طلاق واقع ہوجائے گی اور مال لازم نہ ہوگا۔ (2) (عالمگیری)حجر کا بیان
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیۡ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوۡہُمْ فِیۡہَا وَاکْسُوۡہُمْ وَقُوۡلُوۡا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ﴿۵﴾وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰۤی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمۡ مِّنْہُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمْ اَمْوَالَہُمْ ۚ)
(3)
''اور بے عقلوں کو ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کواﷲ(عزوجل) نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انھیں اسی میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انھیں سپرد کردو۔''
(حدیث ۱): امام احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ و دارقطنی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص خرید و فروخت میں دھوکا کھا جاتے تھے ان کے گھر والوں نے حضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یارسول اﷲ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)ان کو محجور کر دیجئے (4)ان کو بلا کر حضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)نے بیع سے منع فرمایا انھوں نے عرض کی یارسول اﷲ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم) میں بیع سے صبر نہیں کرسکتا حضور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' اگر بیع کو تم نہیں چھوڑتے توجب بیع کرو یہ کہہ دیا کرو کہ دھوکا نہیں ہے''۔(5)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۹. 2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۵۱. 3۔۔۔۔۔۔پ۴،النساء:۵،۶. 4۔۔۔۔۔۔یعنی ان کو خریدوفروخت سے روک دیجئے۔ 5۔۔۔۔۔۔''المسند''،للإمام احمد بن حنبل،مسند أنس بن مالک بن النضر،الحدیث:۱۳۲۷۵،ج۴،ص۴۳۳. و''سنن أبی داود''،کتاب الإجارۃ،باب فی الرجل یقول...إلخ،الحدیث:۳۵۰۱،ج۳،ص۳۹۱.