درجہ کا ہے جب بھی مکرِہ پر ضمان واجب نہیں اور اگر دوسرے غلام اس سے گھٹیا ہیں تو مکرِہ پر اس کی قیمت واجب ہے اور کفارہ ادا نہ ہوا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: قسم کے کفارہ دینے پر مجبور کیا گیا اور یہ معین نہیں کیا ہے کہ کونسا کفارہ دے اور اس نے کفارہ دے دیا کفارہ صحیح ہے اور اگر معیَّن کر دیا ہے اور اس سے کم درجہ کا کفارہ دے سکتا تھا تو مکرِہ پر ضمان واجب ہے اور کفارہ صحیح نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: اکراہ کے ساتھ اسلام صحیح ہے۔(3)(درمختار) یعنی اگر اس نے اکراہ کی وجہ سے اپنا اسلام ظاہر کیا تو جب تک اس سے کفر ظاہر نہ ہو اس کو کافر نہ کہیں گے۔ اس لیے کہ یہ کیونکر یقین کیا جاسکتا ہے کہ اس نے محض خوف سے ہی اسلام ظاہر کیا ہے دل میں اس کے اسلام نہیں ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کافر نے مسلمان پر حملہ کیا اور جب مسلمان نے حملہ کیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا انھوں نے یہ خیال کر کے کہ محض تلوار کے خوف سے اسلام ظاہر کیا ہے کلمہ پڑھنے کے باوجود اس کو قتل کر ڈالا، جب حضور( صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو اس کی اطلاع ہوئی تو نہایت شدت سے انکار فرمایا(4)۔ اسلام صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ محض مونھ سے کہہ دینے سے ہی وہ حقیقۃً مسلمان ہے کہ اسلام حقیقی تو دل سے تصدیق کا نام ہے صرف مونھ سے بولنا کیا مفید ہوسکتا ہے جبکہ دل میں تصدیق نہ ہو۔
مسئلہ ۴۲: اکراہ کے ساتھ اس سے دَین معاف کرایا گیا یا کفیل(5) کو بَری کرایا گیا یاشفیع کو(6)طلبِ شفعہ سے روک دیا گیا یا کسی کو جبراً مرتد بنانا چاہا یہ سب چیزیں اکراہ سے نہیں ہوسکتیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۴۳: قاضی نے مجبور کر کے کسی سے چوری یا قتلِ عمد کا اقرار کرایا اور اس اقرار پر اس کا ہاتھ کاٹا گیا یا قصاص لیا گیا اگر وہ شخص نیک ہے توقاضی سے قصاص لیا جائے گا اور اگرچوری و قتل میں متہم ہے مشہور ہے کہ چور ہے،قاتل ہے توقاضی سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔(8) (درمختار)