(2)
''اور اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر وہ پارسائی (3)کا ارادہ کریں تاکہ زندگیِ دنیا کی متاع حاصل کرو اور جس نے انھیں مجبور کیا تو اس کے بعد کہ وہ مجبور کی گئیں اﷲبخشنے والا مہربان ہے۔''
مسئلہ ۱: اِکراہ جس کو جبر کرنابھی لوگ بولتے ہیں اس کے شرعی معنی یہ ہیں کہ کسی کے ساتھ ناحق ایسا فعل کرنا کہ وہ شخص ایسا کام کرے جس کو وہ کرنا نہیں چاہتا۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مکرِہ نے کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس کی وجہ سے مکرَہ اپنی مرضی کے خلاف کام کرے مگر مکرَہ جانتا ہے کہ یہ شخص ظالم جابر ہے جو کچھ یہ کہتا ہے اگر میں نے نہ کیا تو مجھے مار ڈالے گا اس صورت میں بھی اکراہ ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)مجبور کرنے والے کو مکرِہ اور جس کو مجبور کیا اوس کو مکرَہ کہتے ہیں پہلی جگہ رے کو زیر ہے دوسری جگہ زبر۔
مسئلہ ۲: اکراہ کا حکم اس وقت متحقق (5)ہوتا ہے جب ایسے شخص کی جانب سے ہو کہ وہ جس چیز کی دھمکی دے رہا ہے اس کے کر ڈالنے پر قادر ہو جیسے بادشاہ یا ڈاکو کہ ان کے کہنے کے مطابق اگر نہ کرے تو یہ وہ کام کر گزریں گے جس کی دھمکی دے رہے ہیں۔(6) (ہدایہ)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔پ۳،آل عمرٰن:۲۸.
2۔۔۔۔۔۔پ۱۸،النور:۳۳.
3۔۔۔۔۔۔پاک دامنی۔
4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار ''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۷.
5۔۔۔۔۔۔ثابت۔
6۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الإکراہ،ج۲،ص۲۷۲.