(1)
''جس نے ایمان کے بعد کفر کیا (اس پراﷲکا غضب ہو)مگر جو شخص مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے (وہ عذاب سے بری ہے)ولیکن جس نے کفر کے لیے سینہ کو کھول دیا اون پر اﷲ کا غضب ہے، اور اون کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ ''
ہدایہ میں ہے کہ یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہماکے بارے میں نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے کلمہء کفر بولنے پر انھیں مجبور کیا اور انھوں نے زبان سے کہہ دیا پھر جب حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے دریافت فرمایا کہ تم نے اپنے قلب کو کس حال پر پایا عرض کی میرا دل ایمان پر بالکل مطمئن تھا ارشاد فرمایا کہ اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم کو ایسا ہی کرنا چاہیے(2)یعنی دل ایمان پر مطمئن رہنا چاہیے۔ تفسیر بیضاوی شریف میں ہے کہ کفار قریش نے عمار اور ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کو ارتداد پر مجبور کیا ان کے والدین نے انکار کیا ان دونوں کو قتل کر ڈالا اور یہ دونوں پہلے دو شخص ہیں جو اسلام میں شہید کیے گئے اور عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے زبان سے وہ کہہ دیا جو کفار نے چاہا تھا۔ کسی نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!عمار کافر ہوگیا فرمایا:''ہرگز نہیں، بے شک عمار چوٹی سے قدم تک ایمان سے بھرپور ہے ایمان اس کے گوشت و خون میں سرایت کیے ہوئے ہے''، اس کے بعد عماررضی اﷲ تعالٰی عنہ روتے ہوئے حاضر خدمت اقدس ہوئے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ان کی آنکھوں سے آنسو پونچھا اور فرمایا کہ''تمہیں کیا ہوا (جوروتے ہو)اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم ویساہی کرنا۔''(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔پ۱۴،النحل:۱۰۶.
2۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الإکراہ،فصل،ج۲،ص۲۷۴.
3۔۔۔۔۔۔''تفسیرالبیضاوی''،النحل،تحت الآیۃ:۱۰۶،ج۳،ص۴۲۲.