| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
مسئلہ ۳: اکراہ کی دو قسمیں ہیں ایک تام اور اس کومُلجی بھی کہتے دوسری ناقص اس کو غیر مُلجی بھی کہتے ہیں۔ اکراہ تام یہ ہے کہ مار ڈالنے یا عضو کاٹنے یا ضرب شدید کی دھمکی دی جائے ضرب شدید کا مطلب یہ ہے کہ جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً کسی سے کہتا ہے کہ یہ کام کر، ورنہ تجھے مارتے مارتے بیکار کر دوں گا۔ اکراہ ناقص یہ ہے کہ جس میں اس سے کم کی دھمکی ہو مثلاًپانچ جوتے ماروں گا یا پانچ کوڑے ماروں گا یا مکان میں بند کر دوں گا یا ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دوں گا۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
(اکراہ کے شرائط)
مسئلہ ۴: اکراہ کی شرائط یہ ہیں۔ (۱)مکرِہ اس فعل کے کرنے پر قادر ہو جس کی وہ دھمکی دیتا ہو، (۲)مکرَہ یعنی جس کودھمکی دی گئی اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اگر میں اس کام کو نہ کروں گا تو جس کی دھمکی دے رہا ہے اسے کر گزرے گا، (۳)جس چیز کی دھمکی ہے وہ جان جانا ہے یا عضو کاٹنا ہے یا ایسا غم پیدا کرنا ہے جس کی وجہ سے وہ کام اپنی خوشی و رضامندی سے نہ ہو، (۴)جس کو دھمکی دی گئی وہ پہلے سے اس کام کو نہ کرنا چاہتا ہو اور اس کا نہ کرنا خواہ اپنے حق کی وجہ سے ہو مثلاً اس سے کہا گیا کہ تو اپنا مال ہلاک کر دے یا بیچ دے اور یہ ایسا کرنا نہیں چاہتا یا کسی دوسرے شخص کے حق کی وجہ سے اس کام کو نہیں کرنا چاہتا مثلاًفلاں شخص کا مال ہلاک کر۔یا حق شرع کی وجہ سے ایسا نہیں کرنا چاہتا مثلاً شراب پینا، زنا کرنا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵: شرط سوم میں بیان کیا گیا کہ ایسا غم پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے رضامندی سے کام کرنا نہ ہو یہ اکراہ کا ادنیٰ مرتبہ ہے اور اس میں سب لوگوں کی ایک حالت نہیں ہے شریف آدمی کے لیے سخت کلامی ہی سے یہ بات پیدا ہو جائے گی اور کمینہ آدمی ہو تو جب تک اسے ضرب شدید کی نوبت نہ آئے معمولی طور پر مارنے اور گالی دینے کی بھی اسے پرواہ نہیں ہوتی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۶: اکراہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایسا کرو ورنہ تمہارا مال لے لوں گا یا حاکم نے کہا یہ مکان میرے ہاتھ بیع کر دو ورنہ تمہارے فریق کو دلا دوں گا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار ''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۷. 2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۸. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۱۹. 4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار ''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسد...إلخ،ج۹،ص۲۳۹.