مسئلہ ۴: عمریٰ جائز ہے۔ عمریٰ کے معنی یہ ہیں کہ مثلاً مکان عمر بھر کے لیے کسی کو دیدیا کہ جب وہ مرجائے تو واپس لے لے گایہ واپسی کی شرط باطل ہے اب وہ مکان اُسی کا ہوگیا جس کو دیا جب تک وہ زندہ ہے اُس کاہے اور مرجائے گا تو اُسی کے ورثہ لیں گے جس کودیا گیا ہے نہ دینے والا لے سکتا ہے نہ اس کے ورثہ۔ رقبٰے جائز نہیں اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاًکسی کو اس شرط پر دیا کہ اگر میں تجھ سے پہلے مرگیا تومکان تیرا ہے مرنے کے بعد مالک کے ورثہ کا ہوگا، جس کو دیا ہے اُس کانہیں ہوگا۔ (1) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۵: دَین(2)کی معافی کو شرط محض پر معلق کرنا مثلاًمدیون(3)سے کہاجب کل آئے گاتو دَین سے بری ہے یا وہ دَین تیرے لیے ہے یا اگر تو نے نصف دَین ادا کردیا تو باقی نصف تیرا ہے یا وہ معاف ہے یا اگر تو مرجائے تیرا دَین معاف ہے یا اگر تو اس مرض سے مرجائے تو دَین معاف ہے یا میں اس مرض سے مرجاؤں تو دَین مہر سے تو معافی میں ہے، یہ سب صورتیں باطل ہیں دَین معاف نہیں ہوگا اور اگر وہ شرط ایسی ہے کہ ہوچکی ہے تو اِبراصحیح ہے مثلاً اگر تیرے ذمہ میرا دَین ہے تو میں نے معاف کیا معاف ہوگیا۔ یوہیں اگر یہ کہا کہ اگر میں مرجاؤں تو دَین سے تو بری ہے یہ جائز ہے اور وصیت ہے۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۶: مدیون کو دین ہبہ کردینا ایک وجہ سے تملیک (5)ہے اور ایک وجہ سے اسقاط (6)لہٰذا رد کرنے سے رد ہوجائے گااور چونکہ اسقاط بھی ہے لہٰذا قبول پر موقوف نہ ہوگا۔ کفیل(7)کو دین ہبہ کردینا یہ بالکل تملیک ہے یہاں تک کہ وہ مکفول عنہ (8)سے دَین وصول کرسکتا ہے اور بغیر قبول کے تمام نہیں ہوگا اور کفیل سے دین معاف کردینا بالکل اسقاط ہے کہ رد کرنے سے رد نہیں ہوگا۔ (9) (بحر)
مسئلہ ۷: اِبرا یعنی معاف کرنے میں قبول کی ضرورت نہیں ہوتی مگر بدلِ صرف(10)وبدلِ سلم(11)سے بری کردیا