یا ہبہ کردیا اس میں قبول کی ضرورت ہے۔(1)(بحر)
مسئلہ ۸: ایک شخص پر دَین تھا وہ بغیر ادا کیے مرگیا دائن(2)نے وارث کو وہ دَین ہبہ کردیا یہ ہبہ صحیح ہے یہ دین پورے ترکہ کو مستغرق ہو(3)یا نہ ہو دونوں کا ایک حکم ہے ، اور اگر وارث نے ہبہ کو رد کردیا تو رد ہوگیااور بعض ورثہ کوہبہ کیا جب بھی کُل ورثہ کے لیے ہبہ ہے۔ یوہیں وارث سے ابرا کیا یعنی معاف کردیا یہ بھی صحیح ہے۔(4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۹: دائن کے ایک وارث نے مدیون کو تقسیم سے قبل اپنے حصہ کا دین ہبہ کردیا یہ صحیح ہے۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: دائن نے مدیون کو دین ہبہ کردیا اور اُس وقت نہ اُس نے قبول کیانہ رد کیا دو۲ تین ۳ دن کے بعد آکر اُسے رد کرتا ہے صحیح یہ ہے کہ اب رد نہیں کرسکتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: کسی سے یہ کہا کہ جو کچھ میری چیز کھالوتمھارے لیے معافی ہے یہ کھا سکتا ہے جبکہ قرینہ سے یہ نہ معلوم ہوتا ہوکہ اس نے نفاق سے کہا ہے یعنی محض ظاہر ی طور پر کہہ دیا ہے دل سے نہیں چاہتا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: دائن کو خبرملی کہ مدیون مرگیا اس نے کہامیں نے اپنا دَین معاف کردیا ہبہ کردیا بعد میں پھر پتاچلا کہ وہ زندہ ہے اُس سے دین کا مطالبہ نہیں کرسکتا کہ معافی بلا شرط تھی۔(8) (خانیہ)
مسئلہ ۱۳: کسی سے یہ کہا کہ جو کچھ تمھارے حقوق میرے ذمہ ہیں م عاف کردو اُس نے معاف کردیا صاحب حق کو اپنے جتنے حقوق کا علم ہے وہ تو معاف ہوہی گئے اور جن کا علم نہیں قضاءً (9)وہ بھی معاف ہوگئے اور فتویٰ اس پر ہے کہ دیانۃً بھی معاف ہوگئے۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: کسی سے یہ کہا کہ جو کچھ میرے مال میں سے کھالو یا لے لو یا دے دو تمھارے لیے حلال ہے اُس کو کھانا