ہے اور موقع پا کر کہتے بھی ہیں کہ نیوتے (1)کا روپیہ نہیں دیا اگر یہ قرض نہ سمجھتے ہوتے تو ایسا عرف نہ ہوتا جو عموماًہندوستان میں ہے۔
مسئلہ ۴۳: ایک شخص پر دیس سے آیا اور جس کے یہاں اوترا اُس کو کچھ تحائف دیے اور یہ کہا کہ اس کو اپنے گھروالوں میں تقسیم کردو اور خود بھی لے لو اُس سے دریافت کرنا چاہیے کہ کیا چیز کسے دی جائے اور اگر وہ موجود نہ ہوچلاگیا ہو توجو چیز عورتوں کے لائق ہو عورت کو دے اور جو لڑکیوں کے مناسب ہو لڑکیوں کو دے اور جو لڑکوں کے مناسب ہو لڑکوں کو دے اور جو چیز خود اُس کے مناسب ہو وہ خود لے اور جو چیز ایسی ہو کہ مردوعورت دونوں کے لیے یکساں ہوتو دیکھا جائے گا کہ وہ دینے والا مرد کا رشتہ دار ہے تو مرد لے اور عورت کا رشتہ دار ہے تو عورت لے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: بعض اولاد کے ساتھ محبت زیادہ ہو بعض کے ساتھ کم یہ کوئی ملامت کی چیز نہیں کیونکہ یہ فعل غیر اختیاری ہے اور عطیہ (3)میں اگر یہ ارادہ ہو کہ بعض کو ضرر پہنچاوے تو سب میں برابری کرے کم وبیش نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے ہاں اگر اولاد میں ایک کودوسرے پر دینی فضیلت وترجیح ہے مثلاً ایک عالم ہے جو خدمت علم دین میں مصروف ہے یا عبادت ومجاہدہ میں اشتغال رکھتا ہے ایسے کو اگر زیادہ دے اور جو لڑکے دنیا کے کاموں میں زیادہ اشتغال رکھتے ہیں انھیں کم دے یہ جائز ہے اِس میں کسی قسم کی کراہت نہیں یہ حکم دیانت کاہے اور قضا کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال کا مالک ہے حالت صحت میں اپنا سارا مال ایک ہی لڑکے کو دیدے اور دوسروں کو کچھ نہ دے یہ کرسکتاہے دوسرے لڑکے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے مگر ایسا کرنے میں گنہگار ہے۔ (4) (بحر الرائق)
مسئلہ ۴۵: اولاد کو ہبہ کرنے میں لڑکی اور لڑکا دونوں کو برابر دے یہ نہیں کہ لڑکے کو لڑکی سے دو چند (5) دے دے جس طرح میراث میں ہوتا ہے کہ لڑکے کو لڑکی سے دونا ملتاہے ہبہ میں ایسا نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: لڑکا اگر فاسق ہے تو اُس کو صرف بقدر ضرورت دے زیادہ دینے کا یہ مطلب ہوگا کہ یہ گناہ کے کام میں اُس کا معین (7)ہے ، لڑ کافاسق ہے یہ گمان ہے کہ اُس کے بعد یہ اموال بدکاری اور گناہ میں خرچ کرڈالے گا۔ تو اُس کے لیے چھوڑ