یہ چیز حقیر معلوم ہوتی ہے اُن کو دیتے ہوئے لحاظ معلوم ہوتا ہے بچہ کا نام لے دیتے ہیں اور اگر قرینہ سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ خاص اسی بچہ کو دینا مقصود ہے تو والدین نہیں کھاسکتے مثلاًکوئی چیز کھارہا ہے کسی کا بچہ وہاں پہنچ گیا ذرا سی اُٹھا کر بچہ کو دیدی یہاں معلوم ہورہا ہے کہ والدین کو دینا مقصود نہیں ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو چیز کھانے کی نہ ہو وہ نابالغ کودی جائے تو والدین کو بغیرحاجت استعمال درست نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: ختنہ کی تقریب میں رشتہ داروں کے یہاں سے جوڑے وغیرہ آتے ہیں سہرے پر روپے دیے جاتے ہیں اور جوڑے بھی طرح طرح کے ہوتے ہیں ان میں سے جن چیزوں کی نسبت معلوم ہو کہ بچہ کے لیے ہیں۔ مثلاًچھوٹے کپڑے جو بچہ کے مناسب ہیں یہ اُسی بچہ کے لیے ہیں ورنہ والدین کے لیے ہیں اگر باپ کے اقربا(2)نے ہدیہ کیا ہے تو باپ کے لیے ہیں ماں کے رشتہ داروں نے ہدیہ کیا ہے تو ماں کے لیے ہیں۔ (3) (درمختار)
مگر یہاں ہندوستان کا یہ عرف(4)ہے کہ باپ کے کنُبہ کے لوگ بھی زنانہ جوڑا بھیجتے ہیں جو ماں کے لیے ہوتا ہے اور نانہال(5)سے بھی مردانہ جوڑا بھیجا جاتا ہے جس کا صاف یہی مقصد ہے کہ مرد کے لیے مردانہ جوڑا ہے اور عورت کے لیے زنانہ اگرچہ کہیں سے آیا ہو، دیگر تقریبات مثلاًبسم اﷲکے موقع پر اور شادی کے موقع پر طرح طرح کے ہدایا (6)آتے ہیں اور وہ چیزیں کس کے لیے ہیں اس کے متعلق جو عرف ہواُس پر عمل کیا جائے اور اگر بھیجنے والے نے تصریح کردی ہے تو یہ سب سے بڑھ کر ہے چنانچہ تقریبات میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ نام بنام سارے گھر کے لیے جوڑے بھیجے جاتے ہیں بلکہ ملازمین کے لیے بھی جوڑے آتے ہیں اس صورت میں جس کے لیے جو آیا ہے وہی لے سکتا ہے دوسرا نہیں لے سکتا۔
مسئلہ ۴۲: شادی وغیرہ تمام تقریبات میں طرح طرح کی چیزیں بھیجی جاتی ہیں اس کے متعلق ہندوستان میں مختلف قسم کی رسمیں ہیں ہر شہر میں ہر قوم میں جدا جدا رسوم ہیں ان کے متعلق ہدیہ اور ہبہ کا حکم ہے یا قرض کا عموماً رواج سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دینے والے یہ چیزیں بطور قرض دیتے ہیں اِسی وجہ سے شادیوں میں اور ہر تقریب میں جب روپے دیے جاتے ہیں تو ہرایک شخص کا نام اور رقم تحریر کرلیتے ہیں جب اُس دینے والے کے یہاں تقریب ہوتی ہے تو یہ شخص جس کے یہاں دیا جا چکا ہے فہرست نکالتا ہے اور اُتنے روپے ضرور دیتا ہے جو اُس نے دیے تھے اور اس کے خلاف کرنے میں سخت بدنامی ہوتی