مسئلہ ۳۶: بیٹے کو تصرف کرنے کے لیے اموال دے رکھے ہیں بیٹا کام کرتا ہے اور مال میں اضافہ ہو۔ اگر یہ ثابت ہو کہ باپ نے اسے ہبہ کردیا ہے جب تو اس کا ہے ورنہ سب کچھ باپ کا ہے اس کے مرنے کے بعد میراث جاری ہوگی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: نابالغ کوکسی اجنبی نے کوئی چیز ہبہ کی یہ اُس وقت تمام ہوگا کہ ولی اُس پر قبضہ کرلے اس مقام پر ولی سے مراد یہ چار شخص ہیں(1)باپ پھر (2)اُس کا وصی پھر(3)داداپھر(4)اُس کا وصی، اس صورت میں یہ ضرورت نہیں کہ نابالغ ولی کی پرورش میں ہوان چار کی موجودگی میں کوئی شخص اُس پر قبضہ نہیں کرسکتا چاہے اس قابض کی عیال میں وہ نابالغ ہو یانہ ہو وہ قابض ذو رحم محرم ہو یا اجنبی ہو موجودگی سے مُراد یہ ہے کہ وہ حاضر ہوں اوراگر غائب ہوں اور غیبت بھی منقطعہ ہو تواُس کے بعد جس کا مرتبہ ہے وہ قبضہ کرے۔ (2) (بحر)
مسئلہ ۳۸: ان چاروں میں سے کوئی نہ ہو تو چچا وغیرہ جس کی عیال میں نابالغ ہو وہ قبضہ کرے ، ماں یااجنبی کی پرورش میں ہو تو یہ قبضہ کریں گے ، اگر وہ بچہ لقیط ہے یعنی کہیں پڑا ہوا ملا ہے اس کے لیے کوئی چیز ہبہ کی گئی تو ملتقط(3) قبضہ کرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: نابالغ اگر سمجھ وال ہومال لینا جانتا ہو تو وہ خود بھی موہوب (5)پر قبضہ کرسکتا ہے اگرچہ اُس کا باپ موجود ہو اور جس طرح یہ نابالغ قبضہ کرسکتا ہے ہبہ کو رد بھی کرسکتا ہے یعنی چھوٹے بچے کو کسی نے کوئی چیز دی تو وہ لے بھی سکتا ہے اور انکار بھی کرسکتا ہے جس نے نابالغ کو ہبہ کیا ہے وہ ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے ، قاضی کو چاہیے کہ نابالغ کو جو چیز ہبہ کی گئی ہے اُسے بیع کردے تاکہ واہب (6)رجوع نہ کرسکے۔(7) (بحر)
مسئلہ ۴۰: نابالغ کو مٹھائی اور پھل وغیرہ کھانے کی چیزیں ہبہ کی جائیں ان میں سے والدین کھاسکتے ہیں یہ اُ س وقت ہے کہ قرینہ سے معلوم ہو کہ خاص اِس بچہ کوہی دینا نہیں بلکہ والدین کو دینا مقصود ہے مگر اُن کی عزت کا لحاظ کرتے ہوئے