مسئلہ ۳۱: مرہون(1)کو مرتہن (2)کے لیے ہبہ کیا ہبہ تما م ہوگیا کیونکہ مرتہن کا قبضہ پہلے ہی سے ہے اور رہن باطل ہوگیا یعنی مرتہن اپنا دَین راہن (3)سے وصول کریگا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: جوشخص نابالغ کا ولی(5)ہے اگرچہ ا س کو نابالغ کے مال میں تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو یہ جب کبھی نابالغ کو ہبہ کردے تو محض عقد کرنے سے یعنی فقط ایجاب سے ہبہ تمام ہوجائے گا بشرطیکہ شے موہوب واہب یا اُس کے مودَع کے قبضہ میں ہو۔ معلوم ہوا کہ باپ کے ہبہ کا جو حکم ہے باپ نہ ہونے کی صورت میں چچا یا بھائی وغیرہما کا بھی وہی حکم ہے بشرطیکہ نابالغ ان کی عیال میں ہو(6)اس ہبہ میں بعض ائمہ کا ارشاد ہے کہ گواہ مقرر کرلے یہ اشہاد(7)ہبہ کی صحت کے لیے شرط نہیں بلکہ اس لیے ہے تاکہ وہ آئندہ انکار نہ کرسکے یا اُس کے مرنے کے بعد دوسرے ورثہ اس ہبہ سے انکار نہ کردیں۔(8) (بحر ، درمختار)
مسئلہ ۳۳: نابالغ لڑکے کو جو مال ہبہ کیا وہ نہ واہب کے قبضہ میں ہے نہ اُس کے مودَع کے قبضہ میں ہے بلکہ غاصب یا مرتہن یا مستاجر کے قبضہ میں ہے تو ہبہ تما م نہیں۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مزروعہ زمین اپنے نابالغ لڑکے کو ہبہ کی اگر زراعت خود اسی کی ہے ہبہ صحیح ہوگیا اور کاشتکار نے کھیت بویا ہے تو ہبہ صحیح نہ ہو ا کہ واہب کے قبضہ میں نہیں ہے۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: صدقہ کا بھی یہی حکم ہے کہ نابالغ کو اُس کے ولی نے صدقہ کیا تو قبضہ کی ضرورت نہیں ، اگر نابالغ کا ولی نہ ہوتو اُس کی ماں بھی یہی حکم رکھتی ہے کہ محض ہبہ کردینے سے موہوب لہ مالک ہو جائے گا بالغ لڑکا اگرچہ اس کی عیال میں ہواس کا یہ حکم نہیں ہے وہ جب تک قبضہ نہ کرے مالک نہ ہوگا۔ ماں نے اپنا مَہر لڑکے کوہبہ کردیا یہ ہبہ تمام نہ ہوگا جب تک خود ماں نے اس پر قبضہ نہ کیا ہو اور لڑکے کا قبضہ نہ کرادے۔ (11) (بحر)