Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
69 - 186
تعلیم ویسی ہی واجب ہے جس طرح توحید وایمان کی تعلیم واجب ہے کیونکہ جودو احسان سے دُنیا کی محبت دور ہوتی ہے اور محبت دنیا ہی ہر گناہ کی جڑ ہے۔ ہبہ کا قبول کرنا سنت ہے ہدیہ کرنے سے آپس میں محبت زیادہ ہوتی ہے۔ (1)

 (درمختار)

    مسئلہ ۳: ہبہ صحیح ہونے کی چند شرطیں ہیں :

     واہب کا ۱عاقل ہونا، ۲بالغ ہونا، ۳ مالک ہونا، نابالغ کا ہبہ صحیح نہیں اسی طرح غلام کا ہبہ کرنا بھی کہ یہ کسی چیزکا مالک ہی نہیں ، ۴جو چیز ہبہ کی جائے وہ موجود ہو اور، ۵ قبضہ میں ہو، ۶مشاع (2)نہ ہو، ۷متمیز ہو،(3)۸مشغول نہ ہو۔ اس کے ارکان ایجاب وقبول ہیں اور ا س کا حکم یہ ہے کہ ہبہ کرنے سے چیز موہوب لہ کی مِلک ہوجاتی ہے اگرچہ یہ مِلک لازم نہیں ہے۔ اس میں خیار شرط صحیح نہیں مثلاًہبہ کیا اور موہوب لہ کے لیے تین دن کا اختیار دیا ہاں اگر جدائی سے پہلے اُس نے ہبہ کو اختیار کرلیا ہبہ صحیح ہوگیا ورنہ نہیں۔ اور اگر واہب نے اپنے لیے تین دن کا خیار رکھا ہے تو ہبہ صحیح ہے اور خیار باطل، شروط فاسد ہ (4)سے ہبہ باطل نہیں ہوتا بلکہ خود شرطیں ہی باطل ہو جاتی ہیں مثلاً ایک شخص کو اپناغلام اس شرط پر ہبہ کیا کہ وہ غلام کو آزاد کردے ہبہ صحیح ہے اور شرط باطل۔(5)(بحر، عالمگیری)

    مسئلہ ۴: ہبہ دوقسم ہے ایک تملیک دوسرا اِسقاط مثلاًجس پر مطالبہ تھا مطالبہ اُسے ہبہ کرنا اُس کو ساقط کرنا ہے۔ مدیون(6)کے سوا دوسرے کو دَین(7)ہبہ کرنا اُس وقت صحیح ہے کہ قبضہ کا بھی اُس کو حکم دیدیا ہوا ور قبضہ کا حکم نہ دیا ہو تو صحیح نہیں۔ (8) (بحر)

    مسئلہ ۵: ایک شخص نے ہنسی مذاق کے طور پر دوسرے سے چیز ہبہ کرنے کو کہا مثلاًیار دوستوں میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مذاق میں کہتے ہیں مٹھائی کھلاؤ یا یہ چیز دے دو مگر اُس نے سچ مچ کوہبہ کردیا یہ ہبہ صحیح ہے ۔کبھی اِس طرح بھی ہبہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ میں نے یہ چیز تم میں سے ایک کے لیے ہبہ کردی جس کا جی چاہے لے لے اُن میں سے ایک نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۶۸.

2۔۔۔۔۔۔وہ مشترک چیز جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں۔    3۔۔۔۔۔۔جدا ہو،نمایاں ہو۔

4۔۔۔۔۔۔ایسی شرطیں جو کسی عقد کے تقاضے کے خلاف ہوں۔

5۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۳.

و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الھبۃ،الباب الاول فی تفسیر الھبۃ...إلخ،ج۴،ص۳۷۴.

6۔۔۔۔۔۔مقروض۔                    7۔۔۔۔۔۔قرض۔

8۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۳.
Flag Counter