لے لی ہبہ درست ہوگیا وہ مالک ہوگیا یا کہہ دیا میں نے اپنے باغ کے پھل کی اجازت دیدی ہے جو چاہے لے لے جو لے گامالک ہوجائے گااور اگر ایسے شخص نے لیا جس کو واہب کے اس ہبہ کی خبر نہیں پہنچی ہے اُس کو لینا جائز نہیں۔ (1) (بحر)اور علم سے پہلے کھایا تو حرام کھایا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ہبہ کے بہت سے الفاظ ہیں۔ میں نے تجھے ہبہ کیا،یہ چیز تمھیں کھانے کو دی۔ یہ چیز میں نے فلاں کے لیے یا تیرے لیے کردی، میں نے یہ چیز تیرے نام کردی، میں نے اس چیزکا تجھے مالک کردیا،اگر قرینہ ہو(3)تو ہبہ ہے ورنہ نہیں کیونکہ مالک کرنا بیع وغیرہ بہت چیزوں کو شامل ہے۔ عمر بھر کے لیے یہ چیز دیدی، اس گھوڑے پر سوار کردیا، یہ کپڑا پہننے کو دیا، میرا یہ مکان تمھارے لیے عمر بھر رہنے کوہے، یہ درخت میں نے اپنے بیٹے کے نام لگایا ہے۔(4)
(درمختار، بحر)
مسئلہ ۷:ہبہ کے بعض الفاظ ذکر کردیے اور اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر لفظ ایسا بولا جس سے ملک رقبہ سمجھی جاتی ہو یعنی خود اُس شے کی ملک تو ہبہ ہے اور اگر منافع کی تملیک معلوم ہوتی ہو(5)تو عاریت ہے اور دونوں کا احتمال ہے تو نیت دیکھی جائے گی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۸: مرد نے عورت کو کپڑے بنوانے کے لیے روپے دیے کہ بنا کر پہنے یہ ہبہ ہے چھوٹے بچے کے لیے کپڑے بنوائے تو بنواتے ہی بلکہ قطع کراتے ہی اُس کی ملک ہوگئے بچہ کو دے یا نہ دے اور بالغ لڑکے کے لیے بنوائے تو جب تک اُس کو قبضہ نہ دے مالک نہیں ہوگا۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: ہبہ کے لیے قبول ضروری ہے یعنی موہوب لہ جب تک قبول نہ کرے اُس کے حق میں ہبہ نہیں ہوگا اگرچہ واہب کے حق میں فقط ایجاب سے ہبہ ہو جائے گا بخلاف بیع کہ اس میں جب تک ایجاب وقبول دونوں نہ ہوں بائع(8)ومشتری(9)کسی کے حق میں بیع نہیں اس کا حاصل یہ ہواکہ مثلاًقسم کھائی تھی کہ یہ چیز فلاں کو ہبہ کردوں گا اس نے ایجاب کیا مگر