حدیث ۳: ترمذی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''ہدیہ کرو کہ اس سے سینہ کا کھوٹ (1)دور ہوجاتا ہے اور پروس والی عورت پروسن کے لیے کوئی چیز حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا کھر ہو۔''(2)اسی کے مثل بخاری شریف میں بھی اُنھیں سے مروی۔(3)مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اگر تھوڑی چیز میسر آئے تو وہی ہدیہ کرے یہ نہ سمجھے کہ ذراسی چیزکیا ہدیہ کی جائے یا یہ کہ کسی نے تھوڑی چیز ہدیہ کی تو اُسے نظرِحقارت سے نہ دیکھے یہ نہ سمجھے کہ یہ کیا ذراسی چیز بھیجی ہے۔ اس حکم میں خاص عورتوں کو ممانعت فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں یہ مادہ بہت پایا جاتا ہے بات بات پر اِس قسم کی نکتہ چینی کیاکرتی ہیں اور عموماًجو چیز یں ہدیہ بھیجی جاتی ہیں وہ عورتوں ہی کے قبضے میں ہوتی ہیں لہٰذا حکم دیا جاتا ہے کہ پروس والی کو چیز بھیجنے میں یہ خیال نہ کرے کہ کم ہے۔
حدیث ۴: صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''اگر مجھے دست یا پایہ کے لیے بلایا جائے تو اس دعوت کو قبول کروں گا اور اگر یہ چیزیں میرے پاس ہدیہ کی جائیں توانھیں قبول کروں گا۔'' (4)
حدیث ۵: صحیح بخاری شریف میں ام المومنین میمونہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مروی، کہتی ہیں: میں نے ایک کنیز(5)آزاد کردی تھی جب حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے حضور (صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم )کو اس کی اطلاع دی، فرمایا:''اگر تم نے اپنے مامووں کو دے دی ہوتی تو تمھیں زیادہ ثواب ملتا۔''(6)
حدیث ۶: ترمذی نے حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ جب حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم مدینہ میں تشریف لائے مہاجرین نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یہ عرض کی:یارسول اللہ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )جن کے یہاں ہم ٹھہرے ہیں(یعنی انصار) ان سے بڑھ کر ہم نے کسی کو زیادہ خرچ کرنے والا نہیں دیکھا اور تھوڑا ہو تو اُسی سے مواساۃ(7)