ہو اور دعویٰ یہ کرے کہ مالک کی اجازت سے میں نے کیا ہے اور مالک اسکی تکذیب کرے تو مستعیر(1)کو ضمان دینا ہوگا، ہاں اگر گواہوں سے مالک کی اجازت ثابت کردے تو ضمان سے بری ہے۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: عاریت کی واپسی مستعیر کے ذمہ ہے جو کچھ واپس کرنے میں صرفہ(3)ہوگا یہ اپنے پاس سے دے گا۔ عاریت کے لیے کوئی وقت معین کردیاتھا کہ اتنے دنوں کے لیے یا اتنی دیر کے لیے چیز دیتا ہوں وہ وقت گزر گیااور چیز نہیں پہنچائی اور ہلاک ہوگئی مستعیر کے ذمہ تاوان ہے کہ اِس نے وقت پورا ہونے کے بعد کیوں نہیں پہنچائی جبکہ پہنچانا اِس کے ذمہ تھا۔ اگر مستعیر نے عاریت اس لیے لی ہے کہ اُسے رہن رکھے گا اور فرض کرو وہ چیز ایسی ہے کہ اُسکی واپسی میں کچھ صرفہ ہوگا تو یہ صرفہ مستعیر کے ذمہ نہیں ہے بلکہ مالک کے ذمہ ہے پہلے جو بیان کیاگیا ہے کہ واپسی کا خرچہ مستعیر کے ذمہ ہے اِس حکم سے صورت مذکورہ کا استثناہے۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۳۰: ایک شخص نے یہ وصیت کی ہے کہ میرا غلام فلاں شخص کی خدمت کرے یعنی وہ وارث کی ملک ہے(5) اور موصیٰ لہ کی اتنے دنوں خدمت کرے اس میں بھی واپسی کا صرفہ موصیٰ لہ کے ذمہ ہے۔ غصب ورہن میں واپسی کی ذمہ داری ومصارف(6)غاصب ومرتہن پر ہیں۔ مالک نے اپنی چیز اُجرت پر دی تو واپسی کی ذمہ داری ومصارف مالک پرہیں۔ یہ اُس وقت ہے کہ وہاں سے لے جانا مالک کی اجازت سے ہو مثلاًکہیں جانے کے لیے ٹٹو (7)کرایہ پر لیا وہاں تک گیا ٹٹوواپس کرنا اس کا کام نہیں بلکہ مالک کاکام ہے اور اگر اُس کے حکم سے نہیں لے گیا ہے تو پہنچانا اس کے ذمہ ہے۔ مثلاًکرسی کرایہ پر لی اور شہر سے باہر لے گیا تو واپس کرنا اس کا کام ہوگا۔ شرکت ومضارَبت اور موہوب شے(8)جس کو مالک نے واپس کرلیا اِن سب کی واپسی مالک کے ذمہ ہے۔ اجیر مشترک جیسے درزی دھوبی کپڑے کی واپسی ان کے ذمہ ہے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)