مسئلہ ۳۱: مستعیرنے جانور کو اپنے غلام یا نوکر کے ہاتھ یا مالک کے غلام کے ہاتھ یا نوکر کے ہاتھ واپس کردیا اور مالک کے قبضہ کرنے سے پہلے ہلاک ہوگیا مستعیر تاوان سے بَری ہوگیا کہ جس طرح واپس کرنے کا دستور تھا بجالایا اگر مزدور کے ہاتھ واپس کیا ہوجو روز پر کام کرتاہے وہ مستعیرکا مزدور ہو یا مالک کایا اجنبی کے ہاتھ واپس کیا اور قبضہ سے پہلے ہلاک ہوجائے تو ضمان دینا ہوگایہ اوس صورت میں ہے کہ عاریت کے لیے مدت تھی اور مدت گزرنے کے بعد مزدور یا اجنبی کے ہاتھ بھیجا ہو اور مدت نہ ہو یا مدت کے اندر بھیجا ہوتو اس میں تاوان نہیں کیونکہ مستعیرکو ودیعت رکھنا جائز ہے۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: عمدہ ونفیس اشیاء جیسے زیور موتیوں کا ہاران کو غلام اور نوکر کے ہاتھ واپس کرنے سے تاوان سے بری نہیں ہوگا کیونکہ یہ چیزیں اس طرح واپس نہیں کی جاتیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: مستعیر گھوڑے کو مالک کے اصطبل(3)میں باندھ گیا یا غلام کو مکان پر پہنچا گیا بری ہوگیا اور اگر گھوڑا غصب کیا ہوتایا ودیعت کے طور پر ہوتا تواِس طرح پہنچاجاناکافی نہ ہوتا بلکہ مالک کو قبضہ دلانا ہوتا۔(4) (بحر)
اور اگر اصطبل مکان سے باہر ہے وہاں باندھ گیا تو عاریت کی صورت میں بھی بری نہیں۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: چیز واپس کرنے لایا مالک نے کہا اُس جگہ رکھ دو رکھنے میں وہ چیز ٹوٹ گئی مگر اُس نے قصداً (6) نہیں توڑی ضمان واجب نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: دوشخص ایک کمرہ میں رہتے ہیں ایک جانب ایک دوسری جانب دوسرا ایک نے دوسرے سے کوئی چیز عاریت لی جب معیرنے واپس مانگی تو مستعیرنے کہا کہ تمھاری جانب جو طاق (8)ہے اُس پر میں نے چیز رکھ دی تھی تو مستعیرپر ضمان(9) واجب نہیں جبکہ یہ مکان انھیں دونوں کے قبضے میں ہے۔(10) (عالمگیری)