پہلے زراعت کی بیع نہیں ہوسکتی اور کھیت جم گیا ہے تو ایسا کیاجاسکتا ہے۔(1) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: مکان عاریت پر لیا اور مستعیر نے مٹی کی اُس میں کوئی دیوار بنوائی مکان والے نے مکان واپس لیا مستعیر اُس دیوار کی قیمت یا صرفہ لینا چاہتا ہے نہیں لے سکتااور اگر چاہتا ہے کہ دیوارگرادے تو گرا بھی نہیں سکتا اگر دیوار مالک ِمکان کی مٹی سے بنوائی ہے۔ زمین عاریت پر لی کہ اس میں مکان بنائے گا اور رہے گا اور جب یہاں سے چلا جائے گا تو مکان مالک زمین کا ہوجائے گا یہ عاریت نہیں ہے بلکہ اجارہ فاسدہ ہے اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک مستعیر وہاں رہے زمین کا واجبی کرایہ اُسکے ذمہ ہے اور جب چھوڑدے تو مکان کا مالک مستعیرہے مالک ِزمین نہیں۔ (2) (بحر)
مسئلہ ۲۶: کسی سے کہا کہ میری اس زمین میں مکان بنالو میں تمھارے پا س اس زمین کو ہمیشہ رہنے دوں گا یا فلاں وقت تک تمھیں نہیں نکالوں گا اور اگر میں نکالوں تو جوکچھ تم خرچ کروگے میں اُس کا ضامن ہوں اور عمارت میری ہوگی اس صورت میں اگر مستعیرکو نکالے گا عمارت کی قیمت دینی ہوگی اور عمارت مالک ِزمین کی ہوگی۔(3)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: جانور عاریت پرلیا ہے تو اُس کا چارہ دانہ گھاس سب مستعیر کے ذمہ ہے یہی حکم لونڈی غلام کا ہے کہ اُنکی خوراک مستعیر کے ذمہ ہے۔ (4) (ردالمحتار)
اور اگر بے مانگے خود مالک نے کہا کہ تم اسے لے جاؤاور اس سے کام لو تو اس صورت میں خوراک مالک کے ذمہ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: مستعیر کے پاس ایک شخص آکر یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص سے فلاں چیز میں نے عاریت لی ہے اور وہ تمھارے یہاں ہے اُس نے کہہ دیا ہے کہ تم وہاں سے لے لو مستعیر نے اُس کو وکیل سمجھ کرچیز دیدی مالک نے انکار کیا کہتا ہے میں نے اُس سے یہ نہیں کہا تھا تو مستعیر کو تاوان دینا ہوگااور اوس شخص سے واپس بھی نہیں لے سکتا جبکہ اُس کی تصدیق کی تھی ہاں اگر اُس کی تصدیق نہیں کی تھی یا تکذیب کی تھی(6)یا شرط کردی تھی کہ ہلاک ہوئی تو تاوان دینا ہوگااس صورت میں جو کچھ مستعیرنے تاوان دیا ہے اِس سے وصول کرسکتا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب مستعیر ایسا تصرف کرے جو موجبِ ضمان(7)