Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
56 - 186
    مسئلہ ۷: تعدّی کی بعض صورتیں یہ ہیں بہت زورسے لگام کھینچی یا ایسا مارا کہ آنکھ پھوٹ گئی یا جانورپراتنا بوجھ لاد دیاکہ معلوم ہے ایسے جانور پر اتنا بوجھ نہیں لاداجاتایا اتنا کام لیا کہ اُتنا کام نہیں لیا جاتا۔ گھوڑے سے اُتر کر مسجدمیں چلاگیا گھوڑاوہیں راستہ میں چھوڑ دیا وہ جاتا رہا، جانور اس لیے لیا کہ فلاں جگہ مجھے سوار ہو کر جانا ہے اور دوسری طرف نہر پر پانی پلانے لے گیا۔ بیل لیا تھا ایک کھیت جو تنے کے لیے اُس سے دوسراکھیت جوتا،اس بیل کے ساتھ دوسر ا اعلیٰ درجہ کا بیل ایک ہل میں جوت دیا اور ویسے بیل کے ساتھ چلنے کی اس کی عادت نہ تھی اور یہ ہلاک ہوگیا۔ جنگل میں گھوڑالیے ہوئے چت سوگیا اور باگ ہاتھ میں ہے اور کوئی شخص چورالے گیا اور بیٹھا ہواسویا تو ضمان نہیں اور اگر سفر میں ہوتا تو چاہے لیٹ کر سوتا یا بیٹھ کر اس پر ضمان نہیں ہوتا۔ (1) (بحر)

    مسئلہ ۸: مستعار چیز سریا کروٹ کے نیچے رکھ کر چت سو گیا ضمان نہیں۔ (2) (عالمگیری)

    مسئلہ ۹: گھوڑا یا تلوار اس لیے عاریت لیتا ہے کہ قتال (3)کریگا تو گھوڑا مارا جائے یا تلوار ٹوٹ جائے اس کا ضمان نہیں(4)اور اگر پتھر پر تلوار ماری اور ٹوٹ گئی تو تاوان ہے۔(5) (عالمگیری)

    مسئلہ ۱۰: عاریت کو نہ اُجرت پر دے سکتا ہے اور نہ رہن رکھ سکتاہے مثلاًمکان یا گھوڑا عاریت پر لیا اور اس کو کرایہ پرچلایا یا روپیہ قرض لیا اور عاریت کورہن رکھ دیا یہ نا جائز ہے ہاں عاریت کو عاریت پر دے سکتا ہے بشرطیکہ وہ چیز ایسی ہوکہ استعمال کرنے والوں کے اختلاف سے اُس میں نقصان نہ پیدا ہو جیسے مکان کی سکونت، جانورپر بوجھ لادنا۔ عاریت کو ودیعت رکھ سکتا ہے مثلاًعاریت کی چیز کاخود پہنچانا ضروری نہیں ہے دوسرے کے ہاتھ بھی مالک کے پاس بھیج سکتا ہے۔ (6) (بحر،درمختار،ہدایہ)

    مسئلہ اا: مستعیر نے عاریت کو کرایہ پر دیدیا یا رہن رکھ دیا اور چیز ہلاک ہوگئی مالک مستعیر سے تاوان وصول کرسکتا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۸.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الخامس فی تضییع العاریۃ...إلخ،ج۴،ص۳۶۸.

3۔۔۔۔۔۔جہاد۔    4۔۔۔۔۔۔تاوان نہیں۔

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الخامس فی تضییع العاریۃ...إلخ،ج۴،ص۳۶۹.

6۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۹.

و''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۲.

و''الھدایۃ''،کتاب العاریۃ،ج۲،ص۲۱۹.
Flag Counter