ہے اور یہ کسی سے رجوع نہیں کرسکتا (1)اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مستاجریا مرتہن سے تاوان وصول کرے پھر یہ مستعیر سے واپس لیں کیونکہ اُسی کی وجہ سے یہ تاوان اِن پر لازم آیا یہ اُس وقت ہے کہ مستاجر کو یہ معلوم نہ تھا کہ پرائی چیز کرایہ پر چلارہا ہے اور اگر معلوم تھا تو تاوان کی واپسی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کو کسی نے دھوکا نہیں دیا ہے۔(2)
(ہدایہ)
مسئلہ ۱۲: مُستَعیر نے عاریت کی چیز کرایہ پر دیدی اور چیز ہلاک ہوگئی اس کو تاوان دینا پڑا تو جو کچھ کرایہ میں وصول ہواہے اُس کا مالک یہی ہے مگر اسے صدقہ کردے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: گھوڑا عاریت لیا اور یہ نہیں بتایا کہ کہاں تک اِس پر سوار ہوکر جائے گا تو شہر کے باہر نہیں لے جاسکتا۔ (4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: چیز عاریت پر لینے کے لیے کسی کو بھیجا قاصد کو مالک نہیں ملا اور چیز گھر میں تھی یہ اوٹھا لایا اور مستعیر کو دیدی مگر اُس سے یہ نہیں کہاکہ بے اجازت لایاہوں اگرچیز ضائع ہوجائے تو مالک تاوان لے سکتا ہے اختیار ہے مستعیر سے لے یا قاصد سے اور جس سے بھی لے گا وہ دوسرے سے رجوع نہیں کرسکتا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: نابالغ بچہ کا مال اُس کا باپ کسی کو عاریت کے طور پر نہیں دے سکتا۔ غلام ماذون مولےٰ کا مال(6) عاریت دے سکتا ہے۔ عورت نے شوہر کی چیز عاریت پردیدی اگر یہ چیز اس قسم کی ہے جو مکان کے اندر ہوتی ہے اور عادۃً عورتوں کے قبضہ بلکہ تصرّف(7)میں رہتی ہے اس کے ہلاک ہونے پر تاوان کسی پر نہیں نہ مستعیر پر نہ عورت پر۔ گھوڑایا بیل عورت نے منگنی (8)دیدیامستعیر اور عورت دونوں ضامن ہیں کہ یہ چیزی ورتوں کے قبضہ کی نہیں ہوتیں۔(9)(بحر)
مسئلہ ۱۶: مالک نے مستعیر سے منفعت کے متعلق کہہ دیا ہے کہ اس چیز سے یہ کام لیا جائے یا وقت کی پابندی کردی ہے کہ اتنے وقت تک یا دونوں باتیں ذکر کردی ہیں یہ تین صورتیں ہوئیں عاریت میں چوتھی صورت یہ ہے کہ وقت و مَنْفِعَت