جہالت سے عاریت فاسد ہے مثلاً ایک شخص سے سواری کے لیے گھوڑا مانگااُس نے کہا اصطبل(1)میں دو گھوڑے بندھے ہیں اُن میں سے ایک لے لو مستعیر ایک لیکر چلاگیا اگر ہلاک ہوگا ضمان دینا ہوگا اور اگرمالک نے یہ کہااُن میں سے جو تو چاہے ایک لے لے تو ضمان نہیں بغیر مانگے کسی نے کہہ دیا یہ میرا گھوڑا ہے اس پر سواری لویا غلام ہے اِس سے خدمت لو یہ عاریت نہیں یعنی خرچہ مالک کو دینا ہوگا اس کے ذمہ نہیں۔(2) (بحر)
مسئلہ ۳: عاریت کے بعض الفاظ یہ ہیں میں نے یہ چیز عاریت دی، میں نے یہ زمین تمھیں کھانے کو دی،یہ کپڑا پہننے کو دیا، یہ جانورسواری کودیا، یہ مکان تمھیں رہنے کو دیا، یا ایک مہینے کے لیے رہنے کو دیا، یا عمر بھر کے لیے دیا، یہ جانور تمہیں دیتا ہوں اِس سے کام لینا اور کھانے کودینا۔ (3)
مسئلہ ۴: ایک شخص نے کہا اپنا جانور کل شام تک کے لیے مجھے عاریت دے دو اُس نے کہا ہاں دوسرے نے بھی کہا کہ کل شام تک کے لیے اپنا جانور مجھے عاریت دے دو اس سے بھی کہا ہاں تو جس نے پہلے مانگا وہ حقدار ہے اور اگر دونوں کے مونھ سے ایک ساتھ بات نکلی تو دونوں کے لیے عاریت ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: عاریت ہلاک ہوگئی اگر مستعیر نے تعدّی نہیں کی ہے یعنی اُس سے اُسی طرح کام لیا جو کام کا طریقہ ہے اورچیز کی حفاظت کی اور اُس پر جو کچھ خرچ کرنا مناسب تھا خرچ کیا تو ہلاک ہونے پر تاوان نہیں اگرچہ عاریت دیتے وقت یہ شرط کرلی ہو کہ ہلاک ہونے پر تاوان دینا ہوگا کہ یہ باطل شرط ہے جس طرح رہن میں ضمان نہ ہونے کی شرط باطل ہے۔(5)(بحر)
مسئلہ ۶: دوسرے کی چیز عاریت کے طور پر دیدی مستعیر کے یہاں ہلاک ہوگئی تومالک کو اختیار ہے پہلے سے تاوان لے یا دوسرے سے اگر دوسرے سے تاوان لیا تو یہ پہلے سے رجوع کرسکتا یہ اُس وقت ہے کہ مستعیر کو یہ نہ معلوم ہوکہ یہ چیز دوسرے کی ہے اور اگر معلوم ہے کہ دوسرے کی چیز ہے تو مستعیر کو ضمان دینا ہوگااور مالک نے اس سے ضمان لیا تو یہ معیر سے رجوع نہیں کرسکتا اور مالک کو یہ بھی اختیار ہے کہ مُعیر سے ضمان وصول کرے اس سے لیا تو یہ مستعیر سے رجوع نہیں کرسکتا۔(6) (بحر)