| بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14) |
مسئلہ۱۰۱: کونڈا ودیعت رکھا مودَع کے مکان میں تنورتھا اس نے کونڈا تنور پررکھ دیا اینٹ گری اور کونڈاٹوٹ گیا اگر تنور پر رکھنے سے تنور چھپانا مقصود تھا تو تاوان دے اور یہ مقصد نہ تھا بلکہ محض اُس کو رکھنا مقصود تھا تو تاوان نہیں۔ یوہیں رکابی یاطباق(1)کو ودیعت رکھا مودَع نے اُس کو مٹکے یا گولی (2)پر رکھدیا اگر محض رکھنا مقصود ہے تو تاوان نہیں اور چھپانا مقصود ہے توتاوان ہے اور یہ کیسے معلوم ہوگا کہ چھپانا مقصود تھا یا نہیں اس کی صورت یہ ہے کہ اگر مٹکے یا گولی میں پانی یا آٹایا کوئی ایسی چیز ہے جو ڈھانکی جاتی ہوتو چھپانا مقصود ہے اور خالی ہے یا اُس میں کوئی ایسی چیز ہے جو چھپا کرنہ رکھی جاتی ہو تو محض رکھنا مقصود ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۱۰۲: بکری ودیعت رکھی مودَع نے اپنی بکریوں کے ساتھ اسے چرنے کو بھیج دیااور بکری چوری گئی اگر یہ چرواہا خاص مودَع کا چرواہا ہے تو تاوان نہیں اور اگر خاص نہیں تو تاوان ہے۔(4) (عالمگیری)عاریت کا بیان
دوسرے شخص کو چیز کی منفعت کا بغیر عوض مالک کردینا عاریت ہے جس کی چیز ہے اُسے معیر کہتے ہیں اور جس کو دی گئی مستعیر ہے اور چیز کو مستعار کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: عاریت کے لیے ایجاب وقبول ہونا ضروری ہے اگر کوئی ایسا فعل کیاجس سے قبول معلوم ہوتا ہو تو یہ فعل ہی قبول ہے مثلاًکسی سے کوئی چیز مانگی اُس نے لاکردیدی اور کچھ نہ کہا عاریت ہوگئی اور اگر وہ شخص خاموش رہا کچھ نہیں بولا تو عاریت نہیں۔(5) (بحر)
مسئلہ ۲: عاریت کا حکم یہ ہے کہ چیز مستعیر کے پاس امانت ہوتی ہے اگرمستعیر نے تعدّی نہیں کی ہے(6) اور چیز ہلاک ہوگئی توضمان(7)واجب نہیں اور اسکے لیے شرط یہ ہے کہ شے مستعار اِنتفاع کے قابل ہو(8)اور عوض لینے کی اس میں شرط نہ ہواگر معاوَضہ شرط ہو تو اجارہ ہوجائے گااگرچہ عاریت ہی کالفظ بولا ہو۔ منافع کی جہالت اس کو فاسد نہیں کرتی اور عین مستعار کیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ تھالی۔ 2۔۔۔۔۔۔مٹی کابنا ہوا برتن جس میں پانی یا غلہ رکھتے ہیں ۔ 3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون ...إلخ،ج۴،ص۳۴۷. 4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. 5۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۶. 6۔۔۔۔۔۔بے جاتصرّف نہیں کیا ہے۔ 7۔۔۔۔۔۔تاوان۔ 8۔۔۔۔۔۔یعنی اُدھار لی ہوئی چیزکام میں لانے کے قابل ہو۔