یوں ساڑھے ساتھ روپے کا تاوان واجب۔ اور اگر دیتے وقت یہ کہا کہ ان میں تین تمھیں ہبہ کرتا ہوں اور سات فلاں شخص کو دے آؤ وہ دینے گیا راستہ میں کل روپے ضائع ہوگئے تو صرف تین روپے کا تاوان واجب ہے کہ یہ ہبہ فاسد ہے اور پانچ پانچ روپے کرکے دیے اور یہ کہہ دیا کہ پانچ ہبہ ہیں اور پانچ امانت اور یہ نہیں بتایا کہ کون سے پانچ ہبہ کے ہیں اس نے سب کو خلط کردیا(1)اور ضائع ہوگئے تو پانچ روپے تاوان واجب۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۶: ودیعت ایسی چیز ہے جس میں گرمیوں میں کیڑے پڑجاتے ہیں اس نے اُس چیز کو ہوا میں نہیں رکھا اور کیڑے پڑگئے تو اس پر تاوان واجب نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۷: ودیعت کوچوہوں نے خراب کردیا اگر اس نے پہلے ہی مودِع سے کہہ دیا تھا کہ یہاں چوہے ہیں توتاوان نہیں اور اسے معلوم ہوگیا کہ یہاں چوہے کے بل ہیں اور نہ بند کیے نہ مالک کو خبر دی تو تاوان واجب ہے۔ (4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۹۸: جانور کو ودیعت رکھا اور غائب ہوگیا مودَع نے اُس کا دودھ دوہا اور یہ اندیشہ ہے کہ اُس کے آنے تک دودھ خراب ہوجائے گا اُس کو بیچ ڈالا اگر قاضی کے حکم سے بیچا توضامن نہیں اور بغیر حکم قاضی بیچا تو ضامن ہے یعنی اگر یہ ثمن ضائع ہوگا توتاوان دینا ہوگا مگر جبکہ ایسی جگہ ہو جہاں قاضی نہ ہوتو ضامن نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ۹۹: انگوٹھی ودیعت رکھی مودَع نے چھنگلیا (6)یااس کے پا س والی اُنگلی میں ڈال لی اور اسی میں پہنے ہوئے تھا کہ ہلاک ہوگئی تو تاوان لازم ہے اور انگوٹھے یاکلمہ کی اُنگلی یا بیچ کی اُنگلی میں ڈال لی اور اسی حالت میں ہلاک ہوئی تو تاوان نہیں اور عورت کے پاس ودیعت رکھی تو کسی اُ نگلی میں ڈالے گی ضامن ہوگی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ۱۰۰: تھیلی میں روپے کسی کے پاس ودیعت رکھے مودَع کے سامنے گن کر سپرد نہیں کیے جب واپس لیے تو کہتاہے کہ روپے کم ہیں تو مودَع پر نہ ضمان ہے نہ اُس پر حلف(8)دیا جائے ہاں اگر اُس کے ذمہ خیانت یا ضائع کرنے کا الزام لگاتا ہے تو حلف ہوگا۔(9) (عالمگیری)