ضمان نہیں اور اگر وہاں قاضی ہی نہ ہوتو چیز کو بیچ ڈالے اور ثمن محفوظ رکھے۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۹۲: ودیعت کے متعلق مودَع نے کچھ خرچ کیا اگر یہ قاضی کے حکم سے نہیں ہے مُتَبَرِّع ہے(2)کچھ معاوضہ نہیں پائے گااور اگر قاضی کے پاس معاملہ پیش کیا قاضی اس پر گواہ طلب کریگاکہ یہ ودیعت ہے اور اس کا مالک غائب ہے پھر اگر وہ چیز ایسی ہے جو کرایہ پر دی جاسکتی ہے تو قاضی حکم دے گا کہ کرایہ پر دی جائے اور آمدنی اس پر صرف کی جائے اور اگر کرایہ پر دینے کی چیز نہ ہوتو قاضی یہ حکم دے گاکہ دو تین دن تم اپنے پاس سے اس پر خرچ کرو شاید مالک آجائے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دے گا بلکہ حکم دے گاکہ چیز بیچ کر اس کا ثمن محفوظ رکھا جائے۔(3) (درمختار،عالمگیری)
مسئلہ۹۳: مُصحَف شریف (4)کو ودیعت یا رہن رکھا تھا۔ مودَع یا مرتہن اُس میں دیکھ کر تلاوت کررہاتھا اسی حالت میں ضائع ہوگیا تاوان واجب نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ۹۴: کتاب ودیعت ہے اس میں غلطی نظر آئی اگر معلوم ہے کہ درست کرنے سے مالک کو ناگوار ی ہوگی درست نہ کرے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۹۵: ایک شخص کو دس روپے دیے اور یہ کہا کہ ان میں سے پانچ تمھارے لیے ہبہ ہیں اور پانچ ودیعت اُس نے پانچ خرچ کر ڈالے اور پانچ ضائع ہوگئے ساڑھے سات روپے اُس پر تاوان کے واجب ہیں کیونکہ مشاع کا ہبہ(7) صحیح نہیں ہے اور ہبہ فاسد کے طور پر جس چیز پر قبضہ ہوتا ہے اُس کا ضمان لازم ہوتا ہے اور پانچ روپے جو ضائع ہوئے ان میں ودیعت اور ہبہ دونوں ہیں لہٰذا ان کے نصف کا ضمان ہوگا کہ وہ ڈھائی روپے ہیں اور جو خرچ کیے ہیں اُن کے کل کا ضمان(8)ہے