مسئلہ ۷۴: ایک شخص کے پاس ودیعت رکھی اُس نے دوسرے کے پاس رکھ دی اور ضائع ہوگئی تو فقط مودَع سے ضمان لے گادوسرے سے نہیں لے سکتا اور اگر دوسرے کودی اور وہاں سے ابھی مودَع جدا نہیں ہوا ہے کہ ہلاک ہوگئی تو مودَع سے بھی ضمان نہیں لے سکتا۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۵: مالک کہتا ہے کہ دوسرے کے یہاں سے ہلاک ہوگئی اور مودَع کہتا ہے اُس نے مجھے واپس کردی تھی میرے یہاں سے ضائع ہوئی مودَع کی بات نہیں مانی جائے گی اور اگر مودَع سے کسی نے غصب کی ہوتی اور مالک کہتا غاصب کے یہاں ہلاک ہوئی اور مودع کہتا اُس نے واپس کردی تھی میرے یہاں ہلاک ہوئی تو مودَع کی بات مانی جاتی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷۶: ایک شخص کو ہزار روپے دیے کہ فلاں شخص کو جو فلاں شہر میں ہے دیدینا اس نے دوسرے کو دیدیے کہ تم اُس شخص کو دیدینا اور راستہ میں روپے ضائع ہوگئے اگر دینے والا مرگیا ہے تو مودَع پر تاوان نہیں ہے کہ یہ وصی ہے اور اگر زندہ ہے تو تاوان ہے کہ وکیل ہے ہاں اگر وہ شخص جس کو دیے ہیں اُسکی عیال میں ہے تو ضامن نہیں۔(3)(رد المحتار)
مسئلہ۷۷: دھوبی نے غلطی سے ایک کاکپڑا دوسرے کو دیدیا اُس نے قطع کر ڈالا دونوں ضامن ہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷۸: جانور کو ودیعت رکھا تھا وہ بیمار ہو ا علاج کرایا اور علاج سے ہلا ک ہوگیا مالک کو اختیارہے جس سے چاہے تاوان لے مودَع سے بھی تاوان لے سکتا ہے اور معالج سے بھی اگر معالج سے تاوان لیا اور بوقت علاج اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ دوسرے کا ہے معالج مودَع سے واپس لے سکتا ہے اور اگر معلوم تھا تو نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۷۹: غاصب نے کسی کے پاس مغصوب چیز ودیعت رکھ دی(6)اور ہلاک ہوگئی مالک کو اختیار ہے دونوں میں سے جس سے چاہے ضمان لے اگر مودَع سے تاوان لیا وہ غاصب سے رجوع کرسکتا ہے۔(7) (درمختار)