Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
50 - 186
    مسئلہ۸۰: ایک شخص کو روپے دیے  کہ ان کو فلاں شخص کو آج ہی دیدینا اس نے نہیں دیے  اور ضائع ہوگئے تاوان لازم نہیں ا س لیے  کہ ا س پر اُسی روز دینا لازم نہ تھا، یوہیں مالک نے یہ کہا کہ ودیعت میرے پا س پہنچاجانا اس نے کہا پہنچادوں گا اور نہیں پہنچائی اس کے پاس سے ضائع ہوگئی تاوان واجب نہیں کیونکہ مودَع کے ذمہ یہاں لا کر دینا نہیں ہے کہ تاوان لازم آئے۔ (1) (درمختار)

    مسئلہ۸۱: مالک نے کہا یہ چیز فلاں شخص کو دیدینا یہ کہتا ہے میں نے دیدی مگر وہ کہتا ہے نہیں دی ہے مودَع کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (2) (درمختار)

    مسئلہ۸۲: مودَع نے کہا معلوم نہیں ودیعت کیوں کر جاتی رہی ابتداءً اُس نے یہی جملہ کہا یا یوں کہا کہ چیز جاتی رہی اور معلوم نہیں کیوں کر گئی اس صورت میں ضمان نہیں،اور اگر یوں کہا معلوم نہیں ضائع ہوئی یا نہیں ہوئی یا یوں کہا معلوم نہیں میں نے اُسے رکھ دیا ہے یا مکان کے اندر کہیں دفن کردیا ہے یا کسی دوسری جگہ دفن کیا ہے ان صورتوں میں ضامن ہے،اور اگر یوں کہتا کہ میں نے ایک جگہ دفن کردیا تھا وہاں سے کوئی چورالے گیا اگرچہ اُس جگہ کو نہیں بتایاجہاں دفن کیا تھا اس میں ضمان واجب نہیں۔ (3) (درمختار)

    مسئلہ۸۳: دلال کو(4)بیچنے کے لیے  کپڑا دیا تھا دلال کہتا ہے کپڑا میرے ہاتھ سے گرگیا اور ضائع ہوگیا معلوم نہیں کیوں کر ضائع ہوا تو اُس پر تاوان نہیں اور دلال یہ کہتا ہے کہ میں بھول گیا معلوم نہیں کس دکان میں رکھ دیا تھا تو تاوان دینا ہوگا۔ (5) (عالمگیری)

    مسئلہ ۸۴: مودَع کہتا ہے ودیعت میں نے اپنے سامنے رکھی تھی بھول کر چلاگیا ضائع ہوگئی اِس صورت میں تاوان دیناہوگا اور اگر کہتا ہے مکان کے اندر چھوڑ کرچلاگیا اور ضائع ہوگئی اگروہ جگہ حفاظت کی ہے کہ اِس قسم کی چیز وہاں بطورِ حفاظت رکھی جاتی ہے تو تاوان نہیں۔ (6) (عالمگیری)

    مسئلہ ۸۵: مکان کسی کی حفاظت میں دے دیا اور اسی مکان کے ایک کمرہ یا کوٹھری میں ودیعت رکھی ہے اگر اس کو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۴.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.        3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۵۴۵.

4۔۔۔۔۔۔کمیشن لے کرمال فروخت کرنے والے کو۔

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون...إلخ،ج۴،ص۳۴۲.

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter