ہرایک اپنے حصہ کی حفاظت کرے اگر ایسا نہیں کیا بلکہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو سپرد کردی تو یہ دینے والا ضامن ہے اور اگر وہ چیز تقسیم کے قابل نہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کو سپرد کرسکتا ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷۱: مودِع نے کہہ دیا تھا کہ ودیعت کو دکان میں نہ رکھنا کیونکہ اُس میں سے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اگر مودَع کے لیے کوئی دوسری جگہ اس سے زیادہ محفوظ ہے اور یہ اس پر قادر بھی تھا کہ اُٹھا کر وہاں لے جاتااور نہ لے گیا اور دکان سے وہ چیز رات میں چوری گئی تو ضمان دینا ہوگا اور کوئی دوسری جگہ حفاظت کی اس کے پاس نہیں یا اُس وقت چیز کو لے جانے پر قادر نہ تھا تو ضامن نہیں۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: مالک نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس چیز کو اپنی عیال کے پاس نہ چھوڑنایا اس کمرے میں رکھنا اور مودَع نے ایسے کو دیا جس کے دینے سے چارہ نہ تھا مثلاًزیور تھا بی بی کو دینے سے منع کیا تھا اُس نے بی بی کو دیدیا ،گھوڑا تھا غلام کو دینے سے منع کیا تھا اس نے غلام کو دیدیا اور اُس کمرے کے سوا دوسرے کمرے میں رکھی اور دونوں کمرے حفاظت کے لحاظ سے یکساں ہیں یا یہ اُس سے بھی زیادہ محفوظ ہے اور ودیعت ضائع ہوگئی تاوان لازم نہیں اور اگر یہ باتیں نہ ہوں مثلاًزیور غلام کو دیدیا یا گھوڑا بی بی کی حفاظت میں دیا یا وہ کمرہ اُتنا محفوظ نہیں ہے تو تاوان دینا ہوگا۔(3)(درمختار)
مسئلہ ۷۳: مودِع نے کہااِ س تھیلی میں نہ رکھنا اُس میں رکھنایا تھیلی میں رکھنا صندوق میں نہ رکھنا یا صندوق میں رکھنا اس گھر میں نہ رکھنا اور اُس نے وہ کیا جس سے مودِع نے منع کیا تھا اِن صورتوں میں ضمان واجب نہیں۔ (4)
(عالمگیری)
قاعدہ کلیہ اس باب میں(5)یہ ہے کہ امانت رکھنے والے نے اگر ایسی شرط لگائی جس کی رعایت ممکن ہے اور مفید بھی ہو تو اُس کا اعتبار ہے اور ایسی نہ ہوتو اُس کا اعتبار نہیں مثلاًیہ شرط کہ اسے اپنے ہاتھ ہی میں لیے رہنا کسی جگہ نہ رکھنا یا دہنے ہاتھ میں رکھنا بائیں میں نہ رکھنا یا اس چیز کو دہنی آنکھ سے دیکھتے رہنا بائیں آنکھ سے نہ دیکھنا اس قسم کی شرطیں بیکار ہیں ان پر عمل کرنا کچھ ضرور نہیں۔(6) (عالمگیری)