Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
47 - 186
کردیا پھر مدیون نے اُسی جنس کی چیز ودیعت رکھی اپنے دَین میں اسے روک سکتا ہے اور اگر ودیعت اُس جنس کی چیز نہ ہو تو نہیں روک سکتا(1)۔(2) (عالمگیری)

    مسئلہ ۶۷: ایک شخص سے پچاس روپے قرض مانگے اُس نے غلطی سے پچاس کی جگہ ساٹھ دیدیے  اس نے مکان پر آکر دیکھا کہ دس زائد ہیں واپس کرنے کو دس روپے لے گیا راستہ میں یہ ضائع ہوگئے اس پر پانچ سدس کا ضمان ہے اور ایک سدس یعنی دس روپے میں سے چھٹے حصہ کا ضمان نہیں کیونکہ جو روپے اُس نے غلطی سے دیے  وہ اس کے پاس ودیعت ہیں اور وہ کل کا چھٹا حصہ ہے لہٰذا ان دس کا چھٹا حصہ بھی ودیعت ہے صرف اس چھٹے حصے کا ضمان واجب نہیں اور اگر کل روپے ضائع ہوئے تو پچاس ہی روپے اس کے ذمہ واجب ہیں کیونکہ دس ودیعت ہیں ان کا تاوان نہیں۔ یوہیں اگر کسی کے ذمہ پچاس روپے باقی تھے اُس نے غلطی سے ساٹھ لے لیے  دس روپے واپس کرنے جارہا تھا راستہ میں ضائع ہوگئے تو پانچ سدس کا ضمان اس پر واجب ہے۔ (3) (عالمگیری)

    مسئلہ ۶۸: شادی میں روپے پیسے نچھاور کرنے کے لیے  کسی کو دیے  تو یہ شخص اپنے لیے  اُن میں سے بچا نہیں سکتا اور نہ خود گرے ہوئے کو لوٹ سکتا ہے اور یہ بھی نہیں کرسکتا کہ دوسرے کو لٹانے کے لیے  دیدے ۔ شکر اور چھوہارے جو لٹانے کے لیے  دیے  جاتے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے۔ (4) (عالمگیری)

    مسئلہ ۶۹: مسافر کسی کے مکان پر مرگیا اُس نے کچھ تھوڑا سا مال دو تین روپے کا چھوڑا اور اُس کا کوئی وارث معلوم نہیں اور جس کے مکان پر مرا ہے یہ فقیر ہے اُس مال کو اپنے لیے  یہ شخص رکھ سکتا ہے۔(5) (عالمگیری)

    مسئلہ ۷۰: ایک شخص نے دوشخصوں کے پا س ودیعت رکھی اگر وہ چیز قابلِ قسمت ہے دونوں اُس چیز کو تقسیم کرلیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔جبکہ فی زمانہ دائن اگراپنے دَین کی جنس کے علاوہ کسی اورمال کے حصول پرقادرہوتووہ اسے لے سکتاہے،جس کی صراحت اعلیٰ حضرت مجددِدین وملت مولاناشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن نے فتاوی رضویہ میں کچھ یوں فرمائی ہے:''فی الشامی والطحطاوی عن شرح الکنز للعلامۃ الحموی عن الامام العلامۃعلی المقدسی عن جدہ الاشقرعن شرح القدوری للإمام الأخصب ان عدم جواز الأخذمن خلاف الجنس کان فی زمانہم لمطاوعتہم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جوازالأخذعندالقدرۃمن ای مال کان'' ۔

ترجمہ:۔شامی اورطحطاوی میں علامہ حموی کی شرح کنزسے بحوالہ امام علامہ علی مقدسی منقول ہے، انہوں نے اپنے دادااشقرسے بحوالہ شرح قدوری ازامام اخصب ذکرکیاکہ خلاف جنس سے وصول کرنے کاعدم جوازمشائخ کے زمانے میں تھاکیونکہ وہ لوگ حقوق میں باہم متفق تھے،

آج کل فتویٰ اس پرہے کہ جب اپنے حق کی وصولی پرقادرہوچاہے کسی بھی مال سے ہوتووصول کرلیناجائزہے۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۷،ص۵۶۲)

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب العاشر فی المتفرقات،ج۴،ص۳۵۹.

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۶۰.    4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۶۲.    5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter