مسئلہ ۵۱: ودیعت روپیہ یا اشرفی ہے یا مکیل(1)وموزون(2)ہے مودَع نے اس میں سے کچھ خرچ کرڈالا تو جتنا خرچ کیا ہے اُتنے ہی کا ضامن ہے جو باقی ہے اُس کا ضامن نہیں یعنی مابقی(3)اگر ضائع ہوجائے تو اس کا تاوان لازم نہیں اور اگر خرچ کرنے کے لیے نکالا تھا مگر خرچ نہیں کیا پھر اُسی میں شامل کردیا تو تاوان لازم نہیں ا ور اگر جتنا ودیعت میں سے خرچ کرڈالا تھااوتنا ہی باقی میں ملا دیا کہ امتیاز جاتا رہا مثلاًسوروپے میں سے دس خرچ کر ڈالے تھے پھر دس۱۰ روپے باقی میں ملا دیے تو کُل کا ضامن ہوگیا کیوں کہ اپنے مال کو ملا کر ودیعت کو ہلاک کردیا اور اگر اس طرح ملایا ہے کہ امتیاز باقی ہے مثلاًکچھ روپے تھے اور کچھ نوٹ یا اشرفیاں(4)روپے خرچ کرڈالے پھر اُتنے ہی روپے اُس میں شامل کر دیے یا جو کچھ ملایا اُس میں نشان بنا دیاہے کہ جدا کیا جا سکتا ہے یا خرچ کیا اور اُس میں شامل نہیں کیا یا دوو دیعتیں تھیں مثلاً ایک مرتبہ اُس نے دس روپے دیے دوسری مرتبہ دس پھر دیے اور اُن میں سے ایک ودیعت کو خرچ کر ڈالا ان سب صورتوں میں صرف اُس کا ضامن ہے جو خرچ کیا ہے۔ یہ اُس چیز میں ہے جس کے ٹکڑے کرنا مضر نہ ہو مثلاًدس۱۰ سیر گیہوں تھے اُن میں سے پانچ سیر خرچ کیے اور اگر وہ ایسی چیز ہو جس کے ٹکڑے کرنا مضر ہو مثلاً ایک اچکن کا کپڑا تھا یا کوئی زیور تھا اُس میں سے ایک ٹکڑا خرچ کر ڈالا تو کل کا ضامن ہے۔ (5) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: جس شخص نے ملایا ہے وہ غائب ہوگیا اُس کا پتہ نہیں کہ کہاں ہے تو اگر دونوں مالک اس پر راضی ہوجائیں کہ ان میں کا ایک شخص اُس مخلوط چیز (6)کو لے لے اور دوسرے کو اس کی چیز کی قیمت دیدے یہ ہوسکتا ہے اور اس پر بھی راضی نہ ہوں تو مخلوط شے کو بیچ کرہر ایک اپنی اپنی چیز کی قیمت پر ثمن کو تقسیم کرکے لے لے۔ (7)
(عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: ودیعت پر تعدّی کی یعنی اُس میں بیجا تصرُّف کیا مثلاًکپڑا تھا اُسے پہن لیا گھوڑا تھا اُس پر سوار ہوگیا غلام تھا اُس سے خدمت لی یا اُسے کسی دوسرے کے پاس ودیعت رکھ دیا ان سب صورتوں میں اُس پر ضمان لازم ہے مگر پھر اس حرکت سے باز آیا یعنی اُس کو حفاظت میں لے آیا اور یہ نیت ہے کہ اب ایسا نہیں کریگا تو تعدّی کرنے سے جو ضمان کا حکم آگیا تھا زائل ہوگیا یعنی اب اگر چیز ضائع ہو جائے تو تاوان نہیں مگر استعمال سے چیز میں نقصان پیدا ہوجائے تو تاوان دینا ہوگا اور اگر اب بھی