مسئلہ ۴۴: خود مریض سے پوچھا گیاکہ تمھارے پاس فلاں کی ودیعت تھی وہ کیا ہوئی اُس نے کہا میں نے اپنی عورت کو دیدی ہے اُس کے مرنے کے بعد عورت سے پوچھا گیا عورت کہتی ہے مجھے اُس نے نہیں دی ہے اس صورت میں عورت پر حلف دیا جائے گا (1)اور حلف کرلے تو اُس سے مطالبہ نہ ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: مضارب نے یہ کہاکہ میں نے مال مضاربت فلاں کے پاس ودیعت رکھ دیا ہے یہ کہہ کر مرگیا تو نہ مضارب کے مال سے لیا جاسکتا ہے نہ اُس کے ورثہ سے اور جس کا اُس نے نام لیا ہے وہ انکار کرتا ہے تو قسم کے ساتھ اُس کی بات مان لی جائے گی اور اگر یہ شخص بھی مرگیااور اس نے ودیعت کے متعلق کچھ بیان نہیں کیا اور اِس کے پاس ودیعت رکھنا صرف مضارب کے کہنے ہی سے معلوم ہوااور کوئی ثبوت نہیں ہے تو اس کے ترکہ سے وصول نہیں کی جاسکتی اور اگر گواہوں سے اُس کے پاس ودیعت رکھنا ثابت ہے یا اُس نے خود اقرار کیا ہے کہ میرے پاس مضارِب نے ودیعت رکھی ہے اور مضارِب مرگیاپھر وہ شخص بھی مرگیا تو اُس شخص کے مال سے ودیعت وصول کی جائے گی۔ (3)
(عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: ایک شخص کے پاس ایک ہزار روپے ودیعت کے ہیں ان روپوں کے دوشخص دعویدارہیں ہر ایک کہتا ہے میں نے اس کے پا س ودیعت رکھے ہیں اور مودَع کہتا ہے تم دونوں میں سے ایک نے ودیعت رکھے ہیں میں یہ نہیں معین کرکے بتا سکتا کہ کس نے رکھے ہیں تو اگر وہ دونوں مُدَّعِی(4)اس بات پرصلح و اتفاق کرلیں کہ ہم دونوں یہ روپے برابر برابربانٹ لیں تو ایسا کرسکتے ہیں اور مودَع دینے سے انکار نہیں کرسکتااسکے بعد نہ مودَع سے مطالبہ ہوسکتا ہے نہ اُس پر حلف دیا جاسکتا اور اگر دونوں صلح نہیں کرتے بلکہ ہر ایک پورے ہزار کو لینا چاہتا ہے تو مودَع سے دونوں حلف لے سکتے ہیں پھر اگر دونوں کے مقابل میں اُس نے حلف کرلیا تو دونوں کا دعویٰ ختم ہوگیا اور اگر دونوں کے مقابل میں قسم سے انکار کردیا تو اِس ہزار کو دونوں بانٹ لیں اور ایک دوسرے ہزار کا اُس پر تاوان ہوگا جو دونوں برابر لے لیں گے اور اگر ایک کے مقابل میں حلف کرلیا دوسرے کے مقابل میں قسم سے انکار کردیا تو جس کے مقابل میں قسم سے انکار کیا ہے وہ ہزار لے لے اور جس کے مقابل میں حلف کرلیا ہے اُس کا دعویٰ ساقط۔(5) (عالمگیری)