Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
40 - 186
ہوجائے گاامانت باقی نہیں رہے گی صرف بعض امانتوں کا اِس حکم سے استثنا ہے۔ 

    (1)متولی مسجد جس کے پاس وقف کی آمدنی تھی اور بغیر بیان کیے مر گیا۔ 

    (2)قاضی نے یتامیٰ(۱)اموال امانت رکھے اور بغیر بیان مرگیا یہ نہیں بتایا کہ کس کے پاس امانت ہے اور قاضی نے خود اپنے ہی یہاں رکھا تھا اور بغیر بیان مرگیا تو ضامن ہے اُس کے ترکہ سے وصول کریں مگر قاضی نے اگر کہہ دیا تھاکہ مال میرے پاس سے ضائع ہوگیا یا میں نے یتیم پر خرچ کر ڈالا تو اُس پر ضمان نہیں۔ 

    (3)سُلطان نے اموالِ غنیمت بعض غازیوں کے پاس امانت رکھے اور مرگیا اور یہ بیان نہیں کیا کہ کس کے پاس ہیں۔ 

    (4)دو شخصوں میں شرکت مفاوضہ تھی ان میں سے ایک مرگیا اور جو کچھ اموال اس کے قبضہ میں تھے ان کو بیان نہیں کیا۔ (2) (بحر، عالمگیری)

    مسئلہ ۴۲: مودَع مجنون ہوگیا اور جنون بھی مطبق ہے اور اس کے پا س بہت کچھ اموال ہیں ودیعت تلاش کی گئی مگر نہیں ملی اور اس کی امید بھی نہیں ہے کہ اُس کی عقل ٹھیک ہوجائے گی تو قاضی کسی کو مجنون کا ولی مقرر کریگاوہ مجنون کے مال سے ودیعت ادا کریگا مگر جس کو دے گا اُس سے ضامن لے لے گا پھر اگر وہ مجنون اچھا ہوگیا اور کہتا ہے میں نے ودیعت واپس کردی تھی یا ضائع ہوگئی یاکہتا ہے مجھے معلوم نہیں کیا ہوئی اُس پر حلف(3)دیا جائے گا بعد حلف جو کچھ اُس کا مال دیا گیا ہے واپس لیا جائے گا۔(4) (عالمگیری)

    مسئلہ ۴۳: مودَع نے ودیعت اپنی عورت کو دیدی اور مرگیا تو عورت سے مطالبہ ہوگا اگر عورت کہتی ہے چوری ہوگئی یا ضائع ہوگئی تو قسم کے ساتھ عورت کی بات معتبر ہے اور اس کا مطالبہ اب کسی سے نہ ہوگا اور اگر عورت کہتی ہے میں نے مرنے سے پہلے شوہر کو واپس دیدی تھی تو اس کی بات معتبر ہے اور عورت کو شوہر سے جو کچھ ترکہ ملا ہے اِس میں سے ودیعت کا تاوان لیا جائے گا۔ (5) (عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یتیم کی جمع۔

2۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۶۸.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الخامس فی تجھیل الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۰.

3۔۔۔۔۔۔قسم۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الخامس فی تجھیل الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۰.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter