مسئلہ ۳۸: مودَع کا انتقال ہوگیا اور اس نے ودیعت کے متعلق تجہیل کی ہے (صاف بیان نہیں کیا ہے جس سے معلوم ہوسکے کہ فلاں فلاں چیز امانت ہے اور وہ فلاں جگہ ہے)یہ بھی منع کرنے کے معنی میں ہے اس صورت میں ودیعت کا تاوان لیا جائے گا اور اُس کے ترکہ سے(2)بطور دَین وصول کیا جائے گا ہاں اگر اُس کا بیان نہ کرنا اس وجہ سے ہو کہ ورثہ کو معلوم ہے کہ فلاں چیز ودیعت ہے بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے تو تاوان واجب نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: مودَع مرگیا اور امانت ہلاک ہوگئی مودِع کہتا ہے کہ مودَع نے تجہیل کی ہے لہٰذا ضمان واجب ہے وارث کہتا ہے مجھے معلوم تھا اگر وارث نے اُن چیزوں کو بیان کردیا کہ فلاں فلاں چیز مورث کے پاس (4)ودیعت تھی وارث کا قول معتبر ہے یعنی مودَع کے مرنے کے بعد وارث اُس کے قائم مقام ہے اُس سے ضمان نہیں لیا جائے گا صرف ایک بات میں فرق ہے وارث نے چور کو ودیعت بتادی ضامن نہیں ہے اور مودَع نے بتائی تو ضامن ہے مگرجبکہ اُسے لینے سے بقدر طاقت منع کرے۔ (5) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۴۰: ورثہ کہتے ہیں ودیعت اُس نے اپنی زندگی میں واپس کردی تھی ان کا قول مقبول نہیں بلکہ گواہوں سے واپسی کو ثابت کرنا ہوگا ثابت نہ کرنے پر میّت کے مال سے تاوان وصول کیا جائے اور اگر ورثہ نے گواہوں سے یہ ثابت کیاکہ مودَع نے اپنی زندگی میں یہ کہا تھا کہ ودیعت واپس کرچکا ہوں تو یہ گواہ بھی مقبول ہوں گے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: ودیعت کے علاوہ دیگر امانتوں کا بھی یہی حکم ہے کہ تجہیل کرکے مر جائے گاتو اُس کا تاوان واجب