مسئلہ ۳۲: ودیعت رکھ کر غائب ہوگیا اُس کی عورت مودَع سے کہتی ہے میرا نفقہ (1)ودیعت میں سے دے دو اُس نے ودیعت ہی سے انکار کردیا اس کے بعد اقرار کرتا ہے اور کہتا ہے ودیعت ضائع ہوگئی تو اس کے ذمہ تاوان ہے۔ یوہیں یتیموں کے ولی اور پروسیوں نے وصی سے کہا کہ ان بچوں کا جو کچھ مال تمھارے پاس ہے اِن پر خرچ کرو وصی نے کہا میرے پاس ان کا کوئی مال نہیں ہے پھر مال کا اقرار کیا اور کہتا ہے کہ تمھارے کہنے کے بعد ضائع ہوگیا تو وصی پر تاوان لازم ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۳: ودیعت رکھنے والے کے مکان پر ودیعت لاکر رکھ گیا یا اُس کے بال بچوں کو دے گیا اور ودیعت ضائع ہوگئی تو مودَع پر تاوان لازم ہے اور اپنی عیال کے ہاتھ اُس کے پاس بھیج دی اور ضائع ہوگئی تو ضمان نہیں اور اگر اپنے بالغ لڑکے کے ہاتھ بھیجی جو اُس کی عیال میں نہیں ہے تو ضامن ہے اور نابالغ لڑکے کے ہاتھ بھیجی تو اگر چہ اُس کی عیال میں نہ ہو ضامن نہیں جبکہ یہ نابالغ بچہ ایسا ہو کہ حفاظت کرنا جانتا ہو اور چیزوں کی حفاظت کرتا ہو ورنہ تاوان لازم ہوگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: ودیعت رکھنے والا غائب ہوگیا معلوم نہیں زندہ ہے یا مرگیا تو ودیعت کو محفوظ ہی رکھناہوگا جب موت کا علم ہو جائے اور ورثہ بھی معلوم ہیں ورثہ کو دیدے ۔ معلوم نہ ہونے کی صورت میں ودیعت کو صدقہ نہیں کرسکتا اور لقطہ میں مالک کا پتہ نہ چلے تو صدقہ کرنے کا حکم ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: ودیعت رکھنے والا مر گیا اور اُس پر دَین مستغرق نہ ہو(5)تو ودیعت ورثہ کو دیدے اور دَین مستغرق ہو تو یہ ودیعت حق غُرَماہے اس صورت میں ورثہ کو نہیں دے سکتادے گا تو غُرَما(6)اس مودَع سے تاوان لیں گے۔ (7)
(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: جس کے پا س ودیعت تھی کہتا ہے کہ میں نے تمھارے پاس ودیعت بھیج دی اور جس کے ہاتھ بھیجنا بتاتا ہے وہ اس کی عیال میں ہے تو اس کا قول معتبر ہے اور اجنبی کے ہاتھ بھیجنا کہتا ہے اور مالک انکار کرتاہے کہتا ہے مجھ کو چیز نہیں ملی تومودَع ضامن ہے ہاں اگر مالک اقرار کرلے یا مودَع گواہوں سے اُسکے پاس پہنچنا ثابت کردے توضامن نہیں۔(8) (عالمگیری)