Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
37 - 186
 (بہار شریعت،ج۳، حصہ۱۹،ص۹۹۳)
ہوکر گیا تو ہلاک ہونے پر مودَع کو تاوان دینا ہوگاکہ طلب کے بعد روکنے کی اجازت نہ تھی اور اگر مالک کے وکیل نے مانگا اور مودَع نے وہی جواب دیا تو یہ راضی ہوکر جائے یا ناراض ہوکر دونوں صورتوں میں ضمان واجب ہے کہ اس کو جدیدایداع کا(1)اختیار نہیں۔ (2) (بحر)

    مسئلہ ۲۹: مالک نے ودیعت مانگی مودَع نے کہا کل لینا دوسرے دن یہ کہتا ہے کہ وہ جو تم میرے پا س آئے تھے اور میں نے اقرار کیا تھا اُس کے بعد وہ ودیعت ضائع ہوگئی اس صورت میں تاوان نہیں اور اگر یہ کہتا ہے کہ اُس سے پہلے ودیعت ضائع ہوچکی تھی تو تاوان واجب ہے۔(3) (بحر)

    مسئلہ ۳۰: مالک نے مودَع سے کہا ودیعت واپس کردواُس نے انکارکردیا کہتاہے میرے پاس ودیعت رکھی ہی نہیں اور اُس چیزکو جہاں تھی وہاں سے دوسری جگہ منتقل کردیا حالانکہ وہاں کوئی ایسا بھی نہ تھاجس کی جانب سے یہ اندیشہ ہوکہ اسے پتہ چل جائے گا تو ودیعت کو چھین لے گا اور انکار کے بعد ودیعت کوحاضر بھی نہیں کیا اور اُس کا یہ انکارخود مالک سے ہو اسکے بعد ودیعت کا اقرار کیا تو اب بھی ضامن ہے اور اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ چیز تم نے مجھے ہبہ کردی تھی یامیں نے خریدلی تھی اس کے بعد ودیعت کا اقرار کیا تو ضامن نہیں رہااور اگر مالک نے ودیعت واپس نہیں مانگی صرف اُس کا حال پوچھا ہے کہ کس حالت میں ہے اس نے انکار کردیا کہ میرے پا س ودیعت نہیں رکھی ہے پھر اقرارکیا توضمان نہیں۔ اور اگر اُس کو وہاں سے منتقل نہیں کیا جب بھی ضامن نہیں اور اگر وہاں کوئی ایسا تھا جس سے اندیشہ تھا اس وجہ سے انکار کردیا تو ضامن نہیں اور اگر انکار کے بعد چیز کو حاضر کردیا کہ مالک لے سکتا تھا مگر نہیں لی کہہ دیا کہ اسے تم اپنے ہی پاس رکھوتو یہ جدید ایداع ہے اور ضامن نہیں اور مالک کے سوا دوسرے لوگوں سے انکار کیا ہے جب بھی ضامن نہیں۔(4) (درمختار، بحر)

    مسئلہ ۳۱: ودیعت سے مودَع نے انکار کردیا یعنی یہ کہا کہ میرے پاس تمھاری ودیعت نہیں ہے اسکے بعد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے تمھاری ودیعت واپس کردی تھی اور اس پر گواہ قائم کیے یہ گواہ مقبول ہیں۔(5) (درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔دوبارہ امانت رکھنے کا۔

2۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۶۸.

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۴۶۹.

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۸.

و''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۷۱،۴۷۲.

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۹.
Flag Counter